بنگلورو (فکروخبر نیوز) مرکزی حکومت نے تحفظ یافتہ جنگلاتی علاقوں (نیشنل پارکس) میں مقیم دیہی باشندوں کی باز آبادکاری کے لیے کرناٹک حکومت کی جانب سے ریاست کے کیمپا (CAMPA) فنڈز استعمال کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
راجیہ سبھا میں بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ جگیش کے سوال کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ نے بتایا کہ وزارتی سطح پر کیمپا کی قومی کمیٹی نے کرناٹک حکومت کی یہ درخواست منظور نہیں کی۔
اگرچہ کرناٹک کے پاس کیمپا فنڈز کی مد میں 1,300 کروڑ روپے سے زائد کی رقم موجود ہے، تاہم اس رقم کے استعمال کے لیے قومی اتھارٹی کی منظوری ضروری ہے۔ ریاستی چیف سکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے کدرے مکھ نیشنل پارک کے اندر رہنے والے خاندانوں کی باز آبادکاری اور انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کو کم کرنے کے مقصد سے 100 کروڑ روپے جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
مرکزی وزیر نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ "ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں متعدد خامیاں پائی گئی ہیں، جن سے حکومتِ کرناٹک کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔”
واضح رہے کہ گزشتہ سال کدرے مکھ نیشنل پارک میں منتقلی کے منتظر دو افراد ہاتھی کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اس وقت کے وزیرِ جنگلات ایشور کھانڈرے نے متعلقہ حکام کو کیمپا فنڈز کے حصول کا عمل تیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔
مرکز کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب متاثرہ خاندانوں کی باز آبادکاری کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔




