سی جے پی کا حکومت کو دوبارہ احتجاج کا انتباہ: طلبہ کی گرفتاریوں پر سخت برہمی

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بہار، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں طلبہ اور مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر فوری طور پر واپس نہ لی گئیں اور حراست میں لیے گئے افراد کو رہا نہ کیا گیا تو تنظیم دوبارہ سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہو جائے گی۔ سی جے پی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مرکزی وزراء جے پی نڈّا اور جتیندر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کرنے کے معاہدی کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، این ای ای ٹی-یو جی امتحان کے دھاندلیوں کے خلاف جنتر منتر پر جاری 36 روزہ احتجاج کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان تین دور کے مذاکرات ہوئے تھے، جس کے بعد سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا تھا اور حکومت نے قانونی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اشوتوش رانکا نے بتایا کہ اس معاہدی کے باوجود بہار اور مغربی بنگال میں بالترتیب سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں رضاکاروں اور مظاہرین کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر سی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جھوٹے مقدمات کو ختم کیا جائے اور قانونی معاملات پر تحریری معاہدی کا فریم ورک منظر عام پر لایا جائے۔ بہار کی دارالحکومت پٹنہ میں 22 اور 25 جولائی کے مظاہروں کے بعد اب بھی تقریباً 200 سے زائد افراد پولیس حراست میں ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد اور ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں متعدد ایف آئی آر درج کی ہیں اور سیوان پولیس کا ایک اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کے الزام میں معطل بھی کیا گیا ہے۔

اس تنازع کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی نے کانگریس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ‘ساکشی’ نامی ایک نیا پورٹل بھی جاری کیا ہے۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے مظاہرین اور عینی شاہدین پولیس کارروائی یا تشدد کی ویڈیوز اور تصویروں کو محفوظ کر سکیں گے تاکہ قانونی چارہ جوئی کے دوران ڈیجیٹل ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جا سکے۔ تنظیم کی قانونی ٹیمیں متاثرہ ریاستوں میں گرفتار شدگان کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے مقامی وکلاء کے ساتھ رابطہ قائم کر رہی ہیں۔

ادارے اور جمہوری حقوق کے تحفّظ کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ تعلیمی نظام اور امتحانات میں شفافیت کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ پر اس طرح کی کارروائیوں نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر حکومت نے جلد اس معاہدی کی پاسداری کرتے ہوئے قانونی کارروائیوں کو واپس نہیں لیا تو دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر طلبہ تحریک کا خدشہ ہے۔

شیئر کریں۔