مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفیٰ کے بعد مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارت تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وزیراعظم نریندر مودی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کر لیا ہے اور پرہلاد جوشی کو ان کے موجودہ قلمدان کے ساتھ ساتھ وزارت تعلیم کا چارج بھی تفویض کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
راشٹرپتی بھون سے جاری کردہ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق، پرہلاد جوشی اپنے موجودہ امور صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور جدید و قابل تجدید توانائی کی وزارتوں کے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اب مرکزی وزیر تعلیم کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دیں گے۔ وزیراعظم کی سفارش پر صدر جمہوریہ نے آئین کی دفعہ 75 کی شق (2) کے تحت یہ نیا تقرر عمل میں لایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دھرمیندر پردھان نے ملک بھر میں نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک تنازعہ کے بعد طلبا اور نوجوانوں کے جاری شدید احتجاجی مظاہروں اور دباؤ کے پیش نظر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ نامہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کسی ذاتی انا کا معاملہ نہیں ہے اور وہ پچھلے کچھ دنوں کے واقعات اور بے چینی سے شدید دکھ محسوس کر رہے ہیں۔
پرہلاد جوشی کی بطور وزیر تعلیم مقرر ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کے تعلیمی نظام اور امتحانی ایجنسیوں کی شفافیت پر اپوزیشن اور طلباء تنظیموں کی جانب سے شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنے کی بات ہوگی کہ نئے وزیر تعلیم اس تنازعہ سے کیسے نمٹتے ہیں اور امتحانی اصلاحات کے حوالے سے انتظامی سطح پر کیا اہم اقدامات اٹھاتے ہیں۔




