وزیرتعلیم کے استعفی کے بعد اپوزیشن رہنماوں کا رد عمل ، جانئے کس نے کیا کہا

ملک بھر میں تعلیمی نظام، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نیٹ (NEET) پیپر لیک تنازعہ کے خلاف جاری طلبا کی شدید تحریک کے سامنے بالآخر مرکزی حکومت کو جھکنا پڑا ہے۔ عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنا استعفیٰ نامہ وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے اس اچانک استعفیٰ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں اور اسے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی تاریخی فتح قرار دیا ہے۔

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے طلبا کی گونج بالآخر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھر کے نوجوانوں کی سچائی کی فتح اور حکومت کی ضد کی شکست ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں بدعنوانی کی وجہ سے لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ صرف وزیر تعلیم کا استعفیٰ کافی نہیں ہے بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کو خود سامنے آ کر متاثرہ نوجوان نسل سے معافی مانگنی چاہیے اور پرامن مظاہرین پر لاٹھی، ڈنڈے اور پیلٹ گن چلانے والے ذمہ دار حکام پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب کانگریس کی سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے استعفے کو نوجوانوں کی غیر متزلزل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عوام نے آئین کو نقصان پہنچانے اور عوام کی آواز کو دبانے والوں سے اپنا ملک واپس لینا شروع کر دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے احتجاجی طلبا پر پولیس کی بربریت اور پیلٹ گن کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا، جس کی پوری ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی مرضی سے اوپر کوئی طاقت نہیں ہو سکتی۔

اس بڑی سیاسی پیش رفت پر دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے بھی شدید ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو مودی-شاہ کی جوڑی کے لیے ایک واضح اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک سے شروع ہونے والی یہ لڑائی اب پورے تعلیمی اور سیاسی نظام کی جوابدہی کی لڑائی بن چکی ہے۔ اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک تعلیمی شفافیت اور نوجوانوں کے حقوق کی یہ جنگ جاری رکھے گی۔

شیئر کریں۔