برگر ویڈیو تنازعہ : کاکروچ جنتا پارٹی نے ترجمان وجیتا دہیا کو عہدے سے کیا برطرف

نئی دہلی کے جنتر منتر اور سڑکوں پر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری سنگین احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ایک بڑا سیاسی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے مرکزی ترجمان وجیتا دہیا کو فوری طور پر تمام سرکاری عہدوں اور ذمہ داریوں سے برطرف کر دیا ہے۔ پارٹی نے وجیتا دہیا کی حالیہ وائرل ہونے والی ویڈیو اور ان کے طرزِ عمل کو شدید غیر حساس، ناقابلِ قبول اور تحریک کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پولیس فورسز کی جانب سے جنتر منتر پر پرامن مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا تھا جبکہ پارٹی ترجمان کی لاپرواہی کی ویڈیوز منظرِ عام پر آ گئیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک رسمی بیان جاری کرتے ہوئے اپنے سابق ترجمان کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی کے مطابق جس وقت معصوم طلبہ، عوام اور تحریکی ٹیم پولیس کے بربرانہ تشدد، گرفتاریوں اور سخت حالات کا سامنا کر رہی تھی، اس وقت ترجمان کا غیر ذمہ دارانہ عمل اور نامناسب رویہ تحریک کے نظریات کو زک پہنچانے کا سبب بنا۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا کہ عوام اور طلبہ کے حقوق کی اس جدوجہد میں کسی بھی رہنما یا عہدیدار کی جانب سے ایسی غیر سنجیدگی اور عدم توجہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاجی مقام کے قریب ایک شاپنگ مال کے برگر آؤٹ لیٹ میں وجیتا دہیا موجود ہیں، جہاں مظاہرین اور شہریوں کے ایک گروپ نے ان کا گھیراؤ کر کے سوالات پوچھے کہ جب سڑکوں پر نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں تو وہ برگر کھانے میں مصروف کیوں تھے۔ بعد ازاں اپنے دفاع میں جاری ویڈیو میں وجیتا دہیا نے کہا کہ وہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے مسلسل کام کر رہے ہیں اور انہوں نے برگر نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں میدہ اور ٹرانس فیٹ تھا، تاہم ان کے اس غیر سنجیدہ بیان اور ماضی میں خواتین و دیگر حساس طبقات کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیانات کے باعث عوامی غصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔

یہ اندرونی بحران اس وقت پیدا ہوا ہے جب کاکروچ جنتا پارٹی امتحانی نظام میں بدعنوانی اور دھاندلی کے خلاف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی قیادت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس فورسز نے رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی کو حراست میں لیا گیا۔ تاہم اس قسم کے واقعات تحریک کی ساکھ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے تھے جس کے بعد پارٹی قیادت نے فوری تادیبی کارروائی کرنا ضروری سمجھا۔

سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے اپنے ہی ترجمان کے خلاف اس سخت کارروائی کا مقصد عوامی تحریک کی شفافیت اور ساکھ کو بحال رکھنا ہے۔ احتجاجی تنظیموں نے اعادہ کیا ہے کہ عوامی مسائل، تعلیمی شفافیت اور نوجوانوں کے معاشی تحفظ کی جدوجہد کو کسی فرد کے ذاتی غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا اور وزیر تعلیم کے استعفے تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

شیئر کریں۔