نئی دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے مبینہ تشدد، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف دائر عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے عاجلانہ سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل بینچ نے شفاہی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ان تمام انتظامی اور سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ عدالت اب اس معاملے کی باضابطہ سماعت بدھ کو کرے گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی اور احتجاجی تنظیموں کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں دہلی پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ پیر کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن جب وہ امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، تو پولیس نے ان پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ تنظیم نے یہ سنسنی خیز الزام بھی لگایا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن کا استعمال کیا اور ایک ۱۰ سالہ معصوم بچے کو تھپڑ بھی مارا۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے ان تمام الزامات کی سخت تردید کی ہے۔ پولیس ترجمان اور حکام کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا کوئی استعمال نہیں کیا گیا۔ پولیس کا موقف ہے کہ مظاہرین نے حد سے زیادہ تشدد کا راستہ اختیار کیا، سیکیورٹی بیریئرز توڑنے کی کوشش کی اور سرکاری و عوامی اثاثوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد امن و امان بحال کرنے کے لیے محدود طاقت کا استعمال کیا گیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ پیلٹ گن کو حکومت کی جانب سے غیر مہلک ہتھیار کا درجہ حاصل ہے، جس کے کارتوس میں ربڑ یا پلاسٹک کے چھرے ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق قریب سے پیلٹ گن کا استعمال آنکھوں اور جسم کے نازک اعضاء کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ احتجاجی مہم گزشتہ کئی دنوں سے امتحانی دھاندلیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب مظاہرین کی کچھ ٹولیاں پولیس رکاوٹوں کو عبور کر کے مرکزی دہلی تک پہنچ گئیں۔
عدالت کی جانب سے فوری ریلیف دینے سے انکار کے بعد مظاہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ آئندہ کی سماعت پر اب سبھی کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے پولیس کے اس رویے پر شدید سوالات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات میں شفافیت اور پرامن احتجاج کے آئینی حق کی حفاظت کی جائے تاکہ ملک کے نوجوانوں اور شہریوں کا جمہوری نظام پر اعتماد قائم رہ سکے۔




