سی جے پی احتجاج : دہلی میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور لاٹھی چارج: سی جے پی کے وفد کی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات ، پیش کیے ۳ مطالبات

نئی دہلی: پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ہزاروں کارکنوں نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد دہلی میں زبردست افرا تفری اور ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے باعث جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے ارد گرد کا علاقہ میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں متعدد مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جب کہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، جنتر منتر پر گزشتہ 23 دنوں سے جاری یہ احتجاج اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گیا جب سیکیورٹی فورسز نے شام تقریباً 4 بجے مظاہرین کو وہاں سے کھدیڑنے اور ان کے خیموں کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی۔ حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی مشاورت کی ہے، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، پیوش گوئل اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پر مشتمل وفد نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات کی ایک تفصیلی یادداشت ان کے سپرد کی۔

سی جے پی نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی فوری رہائی، نیٹ (NEET) پیپر لیک کیس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، اور پیپر لیک کے تناؤ کے باعث مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے 21 طلبہ کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ شامل ہے۔ یادداشت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد امتحانات کے پیپرز لیک ہوئے یا تکنیکی خرابیوں کا شکار ہوئے، جس سے ملک کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور وزیر تعلیم ان ناکامیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ احتجاجی تحریک 20 جون سے مسلسل جاری ہے، جس میں سونم وانگچک نے بھی بھوک ہڑتال کی تھی، جنہیں گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے صحت کا حوالہ دے کر حراست میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی جنتر منتر پر مرن برت شروع کیا تھا، جسے انہوں نے پیر کی صبح سونم وانگچک کے پیغام کے بعد ختم کر دیا۔ وفد سے ملاقات کے بعد مرکزی وزیر جے پی نڈا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ مظاہرین کے ساتھ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے اور انہوں نے تحریری یادداشت وصول کر لی ہے، جس پر وہ حکومت کی سطح پر داخلی مشاورت کریں گے۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرنا ختم کر کے انتظامیہ کو امن و امان بحال کرنے میں تعاون فراہم کریں۔

شیئر کریں۔