کین۔بیتوا لنک پروجیکٹ کے خلاف احتجاج : پولیس نے تحریک کے لیڈرکواسپتال کیا منتقل، دیگر مظاہرین کو بھی خالی کرایا گیا

مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں کین۔بیتوا ندی جوڑو پروجیکٹ (Ken-Betwa River Linking Project) کے خلاف گزشتہ دو ہفتوں سے جاری غیر معینہ دھرنے کو اتوار کی علی الصبح پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ختم کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین کے کیمپ کو ہٹا کر تحریک کی قیادت کرنے والے معروف سماجی کارکن امیت بھٹناگر کو حراست میں لے لیا ہے، جو گزشتہ 14 دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ بھوک ہڑتال کے باعث بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں علاج کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے احتجاج گاہ سے تقریباً 150 دیگر مظاہرین کو بھی حراست میں لے کر بسوں کے ذریعے پڑوسی ضلع پنا روانہ کر دیا ہے۔

چھترپور ضلع کے گاؤں کوپی میں بارانا ندی کے کنارے جاری یہ احتجاج اس وقت شدید سرخیوں میں آیا جب مظاہرین، جن میں بڑی تعداد قبائلی خواتین کی تھی، نے اراضی کے حصول، بحالی اور معاوضوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف منفرد انداز اپنایا۔ مظاہرین نے ندی کے پانی میں کھڑے ہو کر ‘جل ستیہ گرہ’، علامتی چتاؤں پر لیٹ کر ‘چتا ستیہ گرہ’ اور گلوں میں پھانسی کے فندے ڈال کر ‘پھانسی ستیہ گرہ’ کے ذریعے اپنے حقوق کی آواز بلند کی تھی۔ تحریک کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ اتوار کی صبح 5 بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے اچانک دھاوا بولا اور میڈیا کے سامنے کرپشن کے مبینہ حقائق پیش کرنے سے ٹھیک پہلے امیت بھٹناگر کو حراست میں لے لیا۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، احتجاج کے پیچھے بنیادی وجہ کین۔بیتوا لنک پروجیکٹ کے تحت زمینوں کے حصول میں شفافیت کی کمی اور بازآبادکاری کی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ حراست میں لیے جانے سے قبل امیت بھٹناگر نے الزام لگایا تھا کہ مختلف گرام پنچایتوں کے ریکارڈز میں یکساں اور ہو بہو تحریریں درج کی گئی ہیں اور کئی مقامات پر گرام سبھا کے اجلاس ایک ہی وقت میں دکھائے گئے ہیں، جو کہ سراسر جعلسازی ہے۔ انہوں نے کروڑوں روپے کے معاوضے ان لوگوں کو دینے کا بھی دعویٰ کیا جو وہاں رہتے ہی نہیں ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے رواں سال اپریل میں نئے سروے کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب، چھترپور انتظامیہ اور پولیس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آدتیہ پاٹلے نے واضح کیا کہ یہ کوئی گرفتاری نہیں بلکہ بگڑتی صحت کے پیش نظر حفاظتی تحویل کی کارروائی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والے مقامی لوگ نہیں بلکہ پنا ضلع سے آئے ہوئے افراد تھے، جنہیں بسوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ضلع کلیکٹر نے بھی میڈیا کو بتایا کہ احتجاج میں شامل صرف 10 فیصد لوگ ہی کین۔بیتوا پروجیکٹ سے براہ راست متاثر ہیں، جبکہ باقی دیگر پروجیکٹوں کے خلاف اپنی مانگیں رکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 44,605 کروڑ روپے کا کین۔بیتوا لنک پروجیکٹ بھارت کا پہلا ندی جوڑو منصوبہ ہے، جس کا مقصد کین ندی کے اضافی پانی کو اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے خشک سالی سے متاثرہ خطے بندیل کھنڈ میں منتقل کرنا ہے۔ جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے 62 لاکھ لوگوں کو پینے کا پانی اور لاکھوں ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کی سہولت ملے گی، وہیں اس منصوبے کی زد میں آنے والے تقریباً 2,000 قبائلی خاندان اپنی زمین، جنگلات، ثقافتی شناخت اور روزگار چھن جانے کے خوف سے مسلسل نبردآزما ہیں۔ انتظامیہ نے دھرنا ختم کرانے کا دعویٰ تو کر دیا ہے، لیکن متاثرین کے حقوق کی بحالی کا یہ تنازع اب بھی سلگ رہا ہے۔

شیئر کریں۔