دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں زیرِ علاج لداخ کے معروف سماجی و ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگ چک کی صحت مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث تشویشناک بنی ہوئی ہے، تاہم ان کا عزم کمزور نہیں ہوا ہے۔ دستیاب reports کے مطابق، وانگ چک نے اسپتال میں بھی طبی علاج لینے اور فاقہ توڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور وہاں سے ۲۰ جولائی کو ہونے والے مجوزہ ’سنسد چلو‘ مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، سماجی کارکن کے اس اعلان کے بعد نئی دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور دہلی پولیس نے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ مارچ کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد دارالحکومت کے حساس ترین سیکوریٹی زون میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
طویل فاقہ کشی اور احتجاج کے دوران صحت بگڑنے پر سونم وانگ چک کو سنیچر کے روز جنتر منتر سے جبراً صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ طبی بلیٹن کے مطابق، اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے، لیکن مسلسل فاقے کی وجہ سے ان کے جسم میں پانی اور پوٹاشیم کی خطرناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے جلد علاج شروع نہ کیا تو ان کے اہم اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود وانگ چک نے اسپتال سے جاری اپنے تازہ پیغام میں واضح کیا ہے کہ جب تک لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور دیگر آئینی حقوق کی فراہمی کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، ان کا یہ احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے ۲۰ جولائی کے مارچ کو ‘ہندوستان کی دوسری آزادی کی تحریک’ سے تعبیر کرتے ہوئے عوام سے حمایت کی اپیل کی ہے۔
اسپتال میں جبری منتقلی اور علاج کے تنازع کے درمیان سونم وانگ چک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر کو سرکاری اسپتال کے بجائے ان کی پسند کے نجی اسپتال میں منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اتوار کو اس درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس پشکرنا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس معاملے کا وسیع تناظر میں جائزہ لینا ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سونم وانگ چک پولیس کی حراست میں نہیں ہیں، اور ان کی اہلیہ، بھائی اور بہنوئی کو ان سے ملاقات کرنے کی مکمل اجازت دی جا چکی ہے، اس لیے حراست کا دعویٰ درست نہیں ہے۔
سیاسی و انتظامی محاذ پر اس معاملے نے شدید رخ اختیار کر لیا ہے۔ دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ انتہائی حساس سیکوریٹی زون ہے اور اس سے امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کو پہلے ہی ریگولیٹ کیا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری طرف، اپوزیشن جماعتیں اور لداخ کے حقوق کے لیے سرگرم سی جے پی جیسے سیاسی و سماجی گروپ وانگ چک کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے حکومت پر لداخ کی آواز کو دبانے کا الزام عائد کیا ہے۔
لداخ کو آئینی تحفظ فراہم کرنے اور وہاں کے ماحولیات کو بچانے کی یہ تحریک اب دارالحکومت دہلی میں ایک بڑے سیاسی اور عوامی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیس جولائی کا مجوزہ مارچ حکومت اور مظاہرین کے درمیان براہ راست تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس نے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے ارد گرد سیکوریٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں اور اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس تعلیمی اور ماحولیاتی مہم جو کے مطالبات پر کوئی مثبت ردعمل ظاہر کرتی ہے یا طاقت کے ذریعے اس تحریک کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔




