جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، سول سوسائٹی کا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط

اتر پردیش کے شہر رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے سرکاری حکم نامے پر ملک کی ممتاز شخصیات اور سول سوسائٹی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایک معروف سول سوسائٹی تنظیم ‘سٹیزن فار فریٹرنٹی بھارت’ نے ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں ان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو بچانا اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ کرنا کسی بھی جمہوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

اس اہم مکتوب پر ملک کی کئی مقتدر اور بااثر شخصیات نے دستخط کیے ہیں، جن میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق سفارت کار اشوک شرما، معروف صنعت کار سید مصطفی شیروانی، سینئر کاروباری رہنما نوید خان اور نامور صحافی جاوید ایم انصاری شامل ہیں۔ ان شخصیات نے خط میں تحریر کیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کا مکمل احترام کرتے ہیں اور اس بات کے حامی ہیں کہ تمام اداروں کو قانونی تقاضوں کی تعمیل کرنی چاہیے، لیکن تعلیمی اداروں کے خلاف کوئی بھی کارروائی قدرتی انصاف، تناسب اور وسیع تر عوامی مفاد کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ ہزاروں زیرِ تعلیم طلبہ کا نقصان نہ ہو۔

خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی محض اینٹ اور گارے سے بنی عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ایسا علمی و فکری مرکز ہوتی ہے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیم فراہم کر کے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ معزز شہریوں نے اپیل کی ہے کہ اگر یونیورسٹی کی تعمیرات میں کسی قسم کی انتظامی یا ریگولیٹری خلاف ورزی پائی بھی گئی ہے، تو کوئی بھی ایسا ناقابلِ تلافی قدم اٹھانے سے پہلے، جس سے عمارتیں تباہ ہو جائیں، تمام دستیاب قانونی راستوں، تدارک کے ذرائع اور عدالتی عمل کو مکمل موقع دیا جانا چاہیے۔

مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے جیل میں بند سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کے اس تعلیمی ادارے کی 38 عمارتوں کو یہ کہہ کر منہدم کرنے کا حکم دیا ہے کہ یہ بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئیں۔ دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ جس وقت یہ تعمیرات کی گئیں، وہ علاقہ آر ڈی اے کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، تاہم اتھارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس تنازع نے ریاست میں مسلم اقلیت کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور اقلیتی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سول سوسائٹی تنظیم نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مخلصانہ درخواست کی ہے کہ ان کی حکومت اس حساس معاملے میں ایک متوازن اور ہمدردانہ رویہ اپنائے، جو قانون کی پابندی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے تعلیمی مفادات کا بھی تحفظ کر سکے۔ خط کے مطابق، قومی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے دور رکھ کر تعلیمی ماحول کو برقرار رکھا جائے، تاکہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں۔