پونچھ اور راجوری میں سیلاب کا قہر، 17 اموات اور درجنوں املاک تباہ،

جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری میں اتوار کی صبح ہونے والی شدید موسلا دھار بارش اور متعدد مقامات پر بادل پھٹنے کے بعد اچانک آنے والے خوفناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں پونچھ اور راجوری اضلاع میں اب تک کم از کم 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں مکانات، دکانیں، گاڑیاں اور دیگر عوامی املاک سیلابی ریلوں میں بہہ گئی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اپنا نئی دہلی کا اہم سیاسی دورہ بیچ میں ہی چھوڑ کر فوری طور پر جموں کے لیے روانہ ہو گئے ہیں تاکہ وہ خود راحتی اور بچاؤ کارروائیوں کی نگرانی کر سکیں۔

حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع پونچھ میں ہوا ہے جہاں 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ پونچھ کے سرنکوٹ علاقے میں ایک رہائشی مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔ مقامی معمر شہریوں کا کہنا ہے کہ سال 1992 کے بعد سرنکوٹ میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے تباہ کن سیلاب ہے۔ اس کے علاوہ حویلی تحصیل کے نونابندی علاقے میں ایک کچا مکان گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور خاندان کے تین دیگر افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سرنکوٹ کے مرہہ علاقے سے بھی ایک خاتون کی سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے موت واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب راجوری ضلع سے بھی ایک خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ضلع راجوری میں سیلاب کی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے جہاں راجوری ندی میں طغیانی کے بعد سیلابی پانی قصبے کی بیلا کالونی اور رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ بیلا بس اسٹینڈ پر کھڑی متعدد کاریں اور تجارتی گاڑیاں تیز سیلابی ریلے میں تنکوں کی طرح بہتی نظر آئیں۔ ادھر تھنہ منڈی سب ڈویژن کے چرونگ، راجدھانی اور بہروٹ علاقوں میں بھی اچانک سیلاب نے شدید تباہی مچائی، جہاں ایک کرشر یونٹ پر کام کرنے والے متعدد مقامی اور بیرونی مزدور پھنس گئے جنہیں نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ منجاکوٹ تحصیل کے کوٹلی کلابان اور گولیناری علاقوں میں بادل پھٹنے کے بعد سیلاب نے ایک مقامی قبرستان کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے متعدد قبریں بہہ گئیں اور مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ اور دکھ کی لہر دوڑ گئی۔

قدرتی آفت کی اطلاع ملتے ہی سول انتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، ہندوستانی فوج اور مقامی رضاکاروں نے جنگی بنیادوں پر مشترکہ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ شدید متاثرہ نشیبی علاقوں سے محصور خاندانوں کو بحفاظت نکال کر سرکاری کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی جموں خطے کے لیے شدید ترین بارشوں اور فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا تھا، تاہم بارش کی غیر متوقع شدت نے نقصانات کے حجم کو بڑھا دیا۔ حکومت نے تمام ہنگامی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور سیلابی پانی اترنے کے بعد بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر بجلی اور پانی کی سپلائی کی فوری بحالی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

سیاسی و انتظامی سطح پر اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جموں واپسی کے باوجود نیشنل کانفرنس کا ریاستی درجے کی بحالی کے لیے دہلی میں مجوزہ احتجاج پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔ ادھر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایل جی منوج سنہا نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ اور سوگوار خاندانوں کو فوری طور پر مالی امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ انتظامیہ نے شہریوں سے ندی نالوں کے قریب نہ جانے اور محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔

شیئر کریں۔