سونم وانگچک جبراً اسپتال داخل، ابھیجیت دیپکے کے بھی دہلی پولس کی حراست میں

قومی دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ 21 دنوں سے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے کو لے کر تامرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو دہلی پولیس نے جبراً اٹھا کر صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر وانگچک کے ساتھ کاک روچ جنتا پارٹی کے کارکنان اور طلبہ بڑی تعداد میں احتجاج کر رہے تھے۔ سنیچر کی صبح پولیس کی بھاری نفری نے اچانک جنتر منتر پر پہنچ کر وانگچک کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور لاؤڈ اسپیکر پر ان کی بگڑتی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اسپتال روانہ کر دیا۔

اس کارروائی کے دوران جنتر منتر پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ کاک روچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو پولیس نے موقع سے حراست میں لے لیا، جنہوں نے بعد میں رہا ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان سوربھ داس نے پولیس پر طلبہ کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے اور لاٹھی چارج کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف کاک روچ جنتا پارٹی کے ایک اور ترجمان آ آشوتوش رانکا نے کہا کہ جنتر منتر کے تمام راستوں کو بلاک کر دیا گیا ہے اور حکومت پرامن آواز کو کچلنے کے لیے آمریت پر اتر آئی ہے۔

دہلی پولیس کے ڈی سی پی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ کے احکامات اور طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وانگچک کو ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم اس عمل کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معمولی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اب جنتر منتر کو پرامن طریقے سے خالی کرانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل آدھی رات کو جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں سونم وانگچک نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ 20 جولائی کو ہونے والے پارلیمنٹ مارچ تک ہر حال میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ملک میں بچوں کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب تنظیم اور مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پولیس کی اس کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور 20 جولائی کو طے شدہ شیڈول کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، جبکہ ملک بھر میں اس کارروائی کے خلاف پرامن احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔

سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے پولیس کی اس کارروائی کو پرامن جمہوری احتجاج پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب ملک کا نوجوان اور سنجیدہ سماجی کارکن تعلیمی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت مکالمے کے بجائے پولیس کے ڈنڈے کا استعمال کرتی ہے، جو کہ ایک جمہوری نظام کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے۔

اس واقعے کے بعد ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے اس کارروائی کو آئین اور جمہوریت پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت اب پرامن احتجاج بھی برداشت کرنے کی سکت کھو چکی ہے۔ انہوں نے اسے تاناشاہی کی انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز کو دبانا ملک کی روح کو زخمی کرنے کے مترادف ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر سچن پائلٹ نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 20 دنوں سے زائد عرصے میں مظاہرین سے بات چیت کرنے کی کوئی زحمت نہیں کی، اور اب عوامی دباؤ سے بچنے کے لیے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ، ترنمول کانگریس کی ساگریکا گھوش اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اقتدار کا گھمنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح ملک میں جمہوری اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے۔

آئندہ کے اقدامات کے تحت اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو پارلیمنٹ اور سڑکوں پر مزید شدت سے اٹھانے کا اشارہ دیا ہے۔ جنتر منتر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ ہیں اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ احتجاج کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

شیئر کریں۔