جوہر یونیورسٹی انہدام نوٹس پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت موقف، یوپی حکومت سے کارروائی روکنے کا مطالبہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کے لیے جاری کیے گئے نوٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نئی دہلی میں جاری ایک بیان میں بورڈ نے اس کارروائی کو جانبدارانہ، انتقامی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اتر پردیش حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو بھیجا گیا انہدام کا نوٹس فوری واپس لیا جائے۔

​بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک مخصوص تعلیمی ادارے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اسے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ حکومتیں ایک طرف مسلم کمیونٹی کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے اقدامات میں ناکام رہی ہیں، اور دوسری طرف جو ادارے عوامی جدوجہد، چندے اور بے پناہ قربانیوں سے قائم کیے گئے ہیں، انہیں مختلف انتظامی اور تکنیکی بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام سماجوادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کے خلاف سیاسی انتقام کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کو تعلیمی میدان میں مزید پیچھے دھکیلنے کی دانستہ کوشش ہے۔

​دستیاب رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر الیاس نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اس دعوے کو سرے سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے فراہم کردہ حقائق کے مطابق یہ عمارتیں اس دور میں تعمیر کی گئی تھیں جب یہ پورا علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، لہذا اس وقت آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی کوئی قانونی حیثیت یا ضرورت موجود نہیں تھی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر کسی سطح پر کوئی تکنیکی یا قانونی خامی موجود بھی ہے تو اسے مروجہ قانونی طریقہ کار کے تحت بات چیت کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے نہ کہ عمارتوں کو مسمار کر کے۔

​مسلم پرسنل لا بورڈ نے واضح کیا ہے کہ برسوں کی محنت اور عوامی تعاون سے قائم ہونے والی ایک معروف جامعہ کی عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ جابرانہ ہے اور یہ ملک کے مجموعی تعلیمی مفاد کے منافی ہے۔ اس قسم کی کارروائیوں سے نہ صرف ایک ادارہ متاثر ہوگا بلکہ قومی تعلیمی سرمائے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ بورڈ کے آفس سکریٹری ڈاکٹر وقارالدین لطیفی کی جانب سے جاری اس بیان میں اتر پردیش حکومت اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے پرامید اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں، قانونی مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کریں اور ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

شیئر کریں۔