مہاراشٹر کے ضلع لاتور سے ایک انتہائی لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تین نابالغ مسلم اسکولی بچوں کو چوری کے بے بنیاد الزام میں ایک کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ رینا پور تعلقہ کے کھارولا گاؤں میں پیش آیا، جہاں 13 سے 15 سال کی عمر کے تین معصوم بچوں کو مقامی بااثر افراد کے ایک گروپ نے وحشیانہ طور پر بیلٹ، بجلی کے تاروں اور لوہے کے پائپوں سے پیٹا۔ اس بہیمانہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت مقامی مسلم کمیونٹی نے پولیس کی کارروائی اور مبینہ جانبداری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق، متاثرہ بچوں کے والدین کو جب اس وحشیانہ سلوک کا علم ہوا تو وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، لیکن حملہ آوروں نے ان کے ساتھ بھی بدتمیزی کی اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔ مجبوراً والدین نے سات کلومیٹر دور واقع قریبی تھانے پہنچ کر پولیس سے مدد کی فریاد کی، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچوں کو آزاد کرایا اور انہیں ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال میں داخل بچوں کے پورے جسم پر تشدد کے گہرے اور واضح نشانات موجود ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے پٹائی کے دوران بچوں پر شدید قسم کے فرقہ وارانہ جملے کسے اور ان کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک رویہ مقامی پولیس کا رہا۔ عینی شاہدین اور متاثرہ خاندان کے بیانات کے مطابق، موقع پر پہنچنے کے باوجود پولیس نے فوری طور پر حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ مبینہ طور پر اس پورے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ پولیس نے رات دیر گئے اس واقعے کے اہم ملزم سچن راؤتراؤ کی شکایت پر الٹا بچوں کے خلاف ہی چوری کا مقدمہ درج کر لیا۔ متاثرہ مسلم خاندان کی ایف آئی آر واقعے کے تقریباً 10 گھنٹے بعد درج کی گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر دو اہم ملزمان سچن راؤتراؤ اور نتن شندے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دیگر چھ ملزمان کو گرفتار ضرور کیا گیا لیکن انہیں محض دو دن کے اندر ہی ضمانت مل گئی، جس سے پولیس کی تفتیش اور نیت پر شکوک و شبہات گہرے ہو گئے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی کیا ہے کہ پولیس نے ان پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا کہ وہ واقعے کو کوئی فرقہ وارانہ رنگ نہ دیں اور بچوں کی مسلم شناخت کو اجاگر کرنے سے گریز کریں۔ کھارولا گاؤں میں تقریباً 1500 خاندان آباد ہیں جن میں سے 300 سے زائد مسلم اور 500 سے زائد مراٹھا برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ گاؤں کے زیادہ تر مسلمان انتہائی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ روزگار کے لیے بڑے زمینداروں پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس واقعے کے بعد سے شدید خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔
اس بہیمانہ واقعے پر سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر سید ناصر حسین نے مہاراشٹر کی موجودہ بی جے پی اتحاد والی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مسلم اقلیتوں اور بالخصوص بچوں کے خلاف نفرت اور ہجومی تشدد (Mob Lynching) کا ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور پولیس اہلکاروں کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، مقامی پولیس انتظامیہ نے اس کیس میں کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ پہلو کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اسے محض چوری کے شبہ میں کیا گیا تصادم قرار دیا ہے۔ تاہم، وائرل ویڈیو اور متاثرین کے بیانات پولیس کے ان دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں۔




