تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے چارمینار زون میں واقع ایک نجی تعلیمی ادارے نے پرائمری کلاس کی ایک خاتون ٹیچر کو اس وقت فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا جب انہوں نے طلبہ کو ہوم ورک کے طور پر کلمہ اور سورہ فاتحہ یاد کرنے کا اسائنمنٹ دیا۔ اسکول انتظامیہ نے نہ صرف مذکورہ ٹیچر کی خدمات کو فوری طور پر ختم کیا بلکہ ان پر گروپ کے تحت چلنے والے دیگر اداروں میں مستقبل میں ملازمت حاصل کرنے پر بھی مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری جانب، اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں اور مقامی دائیں بازو کی تنظیموں نے اسکول کے باہر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جس کے بعد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سعید آباد میں واقع ‘سکسیس اسکول’ میں پیش آیا۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ برطرفی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سعید آباد برانچ میں ‘مدر ٹیچر’ کے طور پر خدمات انجام دینے والی خاتون کی خدمات کو ختم کیا جا رہا ہے اور وہ اب مستقبل میں بھی ‘سکسیس گروپ آف ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز’ میں ملازمت کے لیے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوں گی۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب بدھ کی شام کو ایک طالب علم کے والدین نے کلاس روم میں دیے گئے ہوم ورک کی نوعیت پر اعتراض اٹھایا اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن سے بھی رجوع کیا۔
حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق متعلقہ کلاس میں کل 25 طلبہ زیر تعلیم تھے، جن میں سے 24 مسلمان اور ایک ہندو طالب علم تھا۔ خاتون ٹیچر نے مبینہ طور پر پوری کلاس کو روزانہ کے ہوم ورک کے طور پر کلمہ اور سورہ فاتحہ پڑھنے اور یاد کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہندو طالب علم کے والدین نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی اصولوں اور اسکول کی سیکولر پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا اور انتظامیہ کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائی، جس کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر اسکول انتظامیہ اور پولیس نے فوری ایکشن لیا۔
چارمینار زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کھرے کرن پربھاکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ خاتون ٹیچر کی جانب سے تمام طلبہ کو کلمہ پڑھنے کا ہوم ورک دینا تعلیمی اور اسکول پالیسی کی واضح خلاف ورزی تھا۔ انہوں نے کہا کہ شکایت موصول ہوتے ہی اسکول کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ٹیچر کو برطرف کر دیا۔ ڈی سی پی نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اسکول کے قریب احتجاج کرنے والے تقریباً 30 سے زائد افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے اور فی الحال صورتحال مکمل طور پر پرامن اور قابو میں ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالب علم کے والدین اسکول انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تادیبی کارروائی سے مطمئن ہیں اور انہوں نے تحریری طور پر پولیس کو بتایا ہے کہ انہیں اب اسکول انتظامیہ کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے، جس کی وجہ سے پولیس نے اس معاملے میں کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا ہے، تاہم قانونی رائے کی بنیاد پر مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ڈی سی پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں پولیس کا تعاون کریں کیونکہ اسکول انتظامیہ اور والدین اس مسئلے کے حل پر ایک ساتھ کھڑے ہیں۔




