پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل ملک کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس نے صاف کر دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے مجوزہ ‘حد بندی بل’ (Delimitation Bill) کی کھل کر مخالفت کرے گی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے نئی دہلی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے کی باضابطہ اطلاع دی اور الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سیاسی چالاکیوں اور غلط طریقوں کے ذریعے لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جسے اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا بلاک’ کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
جے رام رمیش نے میڈیا کو بتایا کہ یہ اہم فیصلہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی حالیہ میٹنگ میں اتفاق رائے سے لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس خواتین کے تحفظ اور ان کی سیاسی نمائندگی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اگر موجودہ سیٹوں کی تعداد کو برقرار رکھتے ہوئے ہی ایک تہائی خواتین کو ریزرویشن دے دیا جائے تو کانگریس اس اقدام کی بھرپور حمایت کرے گی۔ تاہم، حد بندی کی آڑ میں سیٹوں کی تعداد میں ہیر پھیر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام ہم خیال اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو گھیرنے کی مکمل حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حد بندی کا معاملہ خاص طور پر جنوبی ریاستوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے اور دہلی کی عام آدمی پارٹی (عآپ) سمیت کئی علاقائی جماعتیں پہلے ہی اس تشویش کا اظہار کر چکی ہیں کہ آبادی کی بنیاد پر حد بندی ہونے سے ترقی پسند اور آبادی پر قابو پانے والی جنوبی ریاستوں کی لوک سبھا سیٹیں نسبتاً کم ہو سکتی ہیں، جبکہ شمالی ریاستوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جے رام رمیش نے یقین دہانی کرائی کہ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے اس معاملے پر بی جے پی کا ساتھ ہرگز نہیں دے گی اور اپوزیشن کا یہ اتحاد ملکی آئین کے وفاقی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے یکجا ہے۔
اس موقع پر کانگریس نے مودی حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ تنازعات کو لے کر بھی سخت رخ اختیار کیا۔ پریس کانفرنس میں چندہ چوری، پیپر لیک کے سنگین معاملات، ای20 ایتھنول اسکینڈل میں بی جے پی کے سینیئر لیڈروں کی مبینہ شمولیت، امریکہ کے ساتھ دفاعی سودوں اور موجودہ خارجہ پالیسی جیسے اہم مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرنے کا اعلان کیا گیا۔ کانگریس رہنما نے واضح کیا کہ لوک سبھا میں اتنی توڑ پھوڑ کرنے کے بعد بھی حکومت کے پاس اخلاقی یا عددی طور پر دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے اور میڈیا میں اس حوالے سے گمراہ کن خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفیٰ کا بھی مطالبہ دہرایا۔
دوسری جانب، ‘ون نیشن ون الیکشن’ کے متنازع معاملے پر بھی کانگریس نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اگرچہ اس معاملے پر قائم جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی رپورٹ 10 اگست تک متوقع ہے، لیکن کانگریس اصولی طور پر اس تصور کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ ہندوستانی آئین اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے مغائر ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کافی ہنگامہ خیز رہنے کی توقع ہے کیونکہ اپوزیشن حد بندی، یکساں انتخابات اور عوامی مسائل پر حکومت کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مضبوطی سے چیلنج کرنے کی تیاری کر چکا ہے۔




