از : مولانا محمد عرفان ایس ایم ندوی
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو پانی سے وابستہ فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔” (الأنبياء: 30) پانی زندگی کی بنیاد ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام جاندار مخلوقات کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ انسان، جانور، پرندے، درخت، نباتات اور سمندری مخلوقات سب کی بقا پانی سے وابستہ کی ہے۔ اگر پانی نہ ہو تو زندگی کا تصوّر ممکن نہیں۔ مخلوقات کی تخلیق میں پانی کا بہت بڑاکردار ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پرانسان کی تخلیق کا تعلق پانی سے بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍاور اللہ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ مخلوق کی زندگی اور بقا کو پانی سے وابستہ کیا ہے، اور یہ اس کی قدرت کی واضح دلیل ہے۔ اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ ، حکمتِ بالغہ ، اور تخلیق کے بے مثال نظام کو بیان کیا ہے۔ اِسی قدرتِ کاملہ کے ظہورکی ایک عظیم نشانی بارش کے ذریعے ہوتی ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اوراس کی رحمت کی علامت ہے۔ جب بارش بروقت ہوتی ہے تو زمین سرسبز ہوتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، جانور سیراب ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی میں خوشحالی نظرآتی ہے۔ سوکھی مٹّی کی مہک گویا اللہ کی رحمت کا پیغام بنکر فضاؤں میں پھیل جاتی ہے۔ درخت خوشی سے جھومنے لگ جاتے ہیں۔ پرندے نغمہ سنج ہوجاتے ہیں ۔ اور انسان بے اختیار اپنے رب کے حضورسجدۂ شکر میں جھک جاتے ہیں۔ بارش کے قطرے صرف زمین ہی کو سرسبز نہیں کرتے بلکہ شکر گزاردلوں میں اُمید ، ایمان اوراللہ کی محبت کے نئے پھول کھلاتے ہیں ۔ بارش صرف پانی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، رزق اور برکت کا ظہور ہے۔ جب بارش وقت پر ہوتی ہے تو کھیت لہلہاتے ہیں، دریا بہتے ہیں، کنویں بھر جاتے ہیں، انسان اور حیوان سب خوش ہوتے نظرآتے ہیں۔ جب آسمان سے بارش برسنے لگتی ہے تو زمین سے قسم قسم کی غذائیں اور پھل اُگنے لگتے ہیں ،نہریں اور چشمے جاری ہونے لگتے ہیں جس کےاثرات دیر اور دور تگ رہتے ہیں ، مخلوقات اس سے فائدہ اُٹھاتی ہے اور بارش ہوتے ہی اُس کے گوشے گوشے میں زندگی کے آثار نمودار ہوتے ہوئے نظرآتے ہیں لیکن جب بارش رُک جاتی ہے تو اُس کے اثر سے زمین بند ہوجاتی ہے ،سبزہ اُگنا بند ہوجاتاہے، تو یہ صورتِ حال ہر صاحبِ ایمان کے لیے محاسبۂ نفس کا موقع بھی ہے۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو صرف اس کا دل سیاہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ کی رحمت سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان مصیبت کے وقت سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرتے ہیں، اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں، اور توبہ و استغفار کو اختیار کرتے ہیں۔
جب بارش رُک جائے، تو قحط سالی پیدا ہو جاتی ہے اور زمین خشک ہونے لگتی ہےاور ہرمخلوق تکلیف محسوس کرتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ بعض اوقات بارش کا رُک جانا صرف ایک طبعی معاملہ نہیں بلکہ انسانوں کے اعمال کا بھی اس میں دخل ہے،اوراللہ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔
بارش نہ ہونے کے اہم ترین اسباب میں گناہوں کی کثرت ہے۔ ارشادِ باری ہے وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں گناہ عام ہو جائیں، اللہ کی نافرمانی کو معمول سمجھ لیا جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں روک لیتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آسمان سے رحمت برسے، تو پہلے ہمیں اپنے دلوں پر جمی ہوئی گناہوں کی گرد کو توبہ کے آنسوؤں سے دھونا ہوگا۔ بارش صرف بادلوں سے نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت سے برستی ہے، اور اللہ کی رحمت اس قوم پر نازل ہوتی ہے جو اپنے رب کی طرف سچے دل سے رجوع کرتی ہے۔” حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا اپنےرب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے، وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا۔” (سورۂ نوح: 10-11)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش ہی نہ برستی۔” (سنن ابن ماجہ) یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی بارش رُکنے کا سبب بن سکتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی اور دھوکہ دیتی ہے تو وہ قوم قحط، مہنگائی اور حکمرانوں کے ظلم میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔” (سنن ابن ماجہ
استغفار اور توبہ سے غفلت برتنے کی وجہ سے بارش کے نزول میں رُکاوٹ ہوسکتی ہے۔آدمی اپنی زندگی کے تمام معاملات میں تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تبارک وتعالیٰ زمین سے برکت کے دروازے کھول دیتے ہیں ۔ارشادِ خداوندی ہے،وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔” (الأعراف: 96)
شہر بھٹکل اور اُ س کے قرب وجوار کے علاقےگزشتہ کئی دھائیو ں سے دیکھے گئے ہیں کہ اِ ن ایّام میں بارانِ رحمت کی وجہ سے ایک خوش گوار موسم رہتاتھا ۔اور خداکی رحمت مسلسل برستی رہتی تھی کئی مدتوں کے بعد یہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں کہ اِ س موسم میں جس مقدار میں بارش نازل ہونی تھی یقیناً نہیں ہوئی۔ یہ بات ہم سب کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔کیا یہ موقع ہم سب کے لئے محاسبہ کا وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بادل کے ختم ہونے کی وجہ سے آسمان سے بارش رک گئی ، بلکہ اس لیے رُکی کہ ہماری آنکھوں سے توبہ کے آنسو ختم ہوگئے؟ حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں شدید قحط پڑا۔ آپؓ لوگوں کو لے کر میدان میں نکلے اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا۔ آپ نے اپنی دعا میں بار بار استغفار کیا اور سورۂ نوح کی آیات تلاوت فرمائیں: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا پھر فرمایا:”میں نے بارش کے اسباب میں سب سے بڑا سبب اختیار کیا ہے، یعنی استغفار۔”اِ س موقع پر ہم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنا محاسبہ کرے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھے۔اگر یقیناً ہم اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی ہورہی ہے توسچے دل سے توبہ اور استغفار کریں۔ حرام غذا سے بچیں ،زکوٰۃ اور دیگر حقوق ادا کریں۔ظلم، رشوت، سود، جھوٹ اور بے حیائی سے بچیں۔صلہ رحمی کریں اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے دعائیں کریں ۔
عزیز دوستو!اگر ایک کسان اپنی سوکھی ہوئی زمین کو دیکھ کر بے چین ہو سکتا ہے، ایک چرواہا اپنے پیاسے جانوروں کو دیکھ کر پریشان ہو سکتا ہے، ایک ماں اپنے بچوں کے لیے پانی نہ ہونے پر تڑپ سکتی ہے، تو کیا ہم اپنے سوکھے ہوئے دلوں پر کبھی آنسو نہیں بہا سکتے؟
ہم آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں: "بارش کیوں نہیں ہو رہی؟کبھی اپنے دل کی طرف دیکھ کراور اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی پوچھا کرے کہ میرے اور میرے رب کے درمیان کون سی رکاوٹ کھڑی ہو گئی ہے؟اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنے بندوں کے لیے رحمت کا دروازہ بند نہیں کیا۔ بندہ جب اپنا ایک قدم آگےبڑھاتا ہے تو اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔یقیناً ان ایّام میں بارش کا نہ ہونا ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ اور ابھی سے اِ س کے کچھ کچھ اثرات نظر آرہے ہیں ۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
آج ہمیں کسی دوسرے کو قصوروار نہ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں ۔ نہ حکومت کو، نہ موسم کو، نہ زمانے کو۔ آج صرف ہم اپنے آپ سے یہ کہیں کہ اے میرے رب! اگر مجھ سے کوتاہیاں ہوئی ہیں تو میں تیرے در پر آیا ہوں۔ میرے گناہوں کو معاف فرما۔ میرے گناہوں کی وجہ سے اپنی رحمت کو بند مت فرما۔ کیا معلوم ایک نوجوان کی سچی توبہ قبول ہو جائے۔ ایک ماں کے آنسو قبول ہو جائیں۔ ایک یتیم کی دعا قبول ہو جائے۔ ایک مظلوم کی آہ آسمان تک پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بادل بھیج دے۔ لہٰذا مایوس نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ اُمید، توبہ اور استغفار والا راستہ اختیار کرنا چائیے اورعزم کرنا چائیے کہ ہماری کوئی نماز قضا نہ ہو۔ روزانہ قرآن پاک کی تلاوت ہو۔زبان کو جھوٹ، غیبت اور گالی سے بچائیں ۔مال کو حرام سے محفوظ رہیں ۔والدین، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔ ہر روز کم از کم سو مرتبہ "أستغفر الله وأتوب إليه” پڑھنے کی کوشش کریں ۔اگر ہم خود بدل جائیں تو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمارے حال پر سایہ فگن ہوگی، اور ان شاء اللہ رحمت، نفع بخش، اور برکت والی بارش نازل ہوگی۔
خدا سے دعا ہے کہ اے پرور دگار ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما ، ہماری لغزشوں سے درگزر فرما اور بارانِ رحمت کا عافیت کے نزول فرما۔ ہمیں اپنے فضل کرم سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔




