تحریر: محمد نعیم قاضی
(سابق لائبریرین، اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول، بھٹکل)
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا»
میں بھٹکل کی سرزمین کا ایک ایسا تاریخی تعلیمی ادارہ ہوں جسے دنیا اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول کے نام سے جانتی ہے۔ تقریباً ایک صدی سے میں علم، تہذیب، کردار سازی اور قوم کی خدمت کے مقدس فریضے میں مصروف ہوں۔ میری آغوش سے علم کی وہ شمع روشن ہوئی جس کی روشنی نے پورے خطۂ بھٹکل کو منور کیا۔ اسی علمی فضا نے آگے چل کر جامعہ اسلامیہ بھٹکل جیسے عظیم ادارے کے قیام کی راہ ہموار کی، اور میرے ہی فیض یافتہ افراد نے متعدد مدارس، مکاتب اور تعلیمی ادارے قائم کرکے اس روشنی کو مزید وسعت دی۔
میرا وجود اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ انجمن حامیٔ مسلمین، بھٹکل کے مخلص اور دوراندیش بانیان، جناب ایف۔ اے۔ حسن، جناب ایم۔ ایم۔ صدیق، جناب آئی۔ ایچ۔ صدیق اور ان کے رفقائے کار کی بے لوث محنت، اخلاص اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ان بزرگوں کو یقین تھا کہ کسی بھی قوم کی عزت، ترقی اور بقا کا حقیقی راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی یقین کے ساتھ انہوں نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جہاں دین و دنیا کی جامع تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہی بزرگوں کی مخلصانہ جدوجہد نے مجھے وجود بخشا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے بھٹکل کی علمی، تہذیبی اور تعلیمی شناخت بن گیا۔
میری ابتدا ایک چھوٹے سے مکتب کی صورت میں ہوئی۔ میرے بانیان نے قرآن و سنت کی تعلیم کو میری بنیاد بنایا۔ میری گود میں بیٹھ کر بچوں نے صرف قرآنِ مجید ہی نہیں پڑھا بلکہ اخلاق، تہذیب، دیانت، اخلاص اور اسلامی اقدار بھی سیکھیں۔ یہی میری اصل پہچان تھی اور الحمد للّٰہ آج بھی ہے۔
سن 1941ء میں مجھے باقاعدہ ہائی اسکول کا درجہ حاصل ہوا۔ یہ میرے سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس کے بعد میری خدمات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی میں نے اپنے دامن میں جگہ دی۔ عربی، اردو، دینیات، انگریزی، سائنس، ریاضی اور دیگر مضامین کی معیاری تعلیم نے مجھے پورے علاقے کا ممتاز تعلیمی مرکز بنا دیا۔
ایک زمانہ تھا جب میرے صحن میں سینکڑوں طلبہ کی چہل پہل رہتی تھی۔ صبح ہوتے ہی میرے دروازے علم کے متلاشی بچوں سے بھر جاتے تھے۔ میرے کمروں میں اساتذہ کی آوازیں، طلبہ کی علمی گفتگو اور سبق کی بازگشت ہر طرف سنائی دیتی تھی۔ مجھے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی تھی کہ میری آنکھوں کے سامنے قوم کا مستقبل پروان چڑھ رہا تھا۔
اور پھر وہ دلکش منظر بھی کیا خوب ہوتا تھا! جب اسکول کی چھٹی ہوتی تو سات سو سے آٹھ سو طلبہ ایک ساتھ اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوتے۔ سڑکیں بچوں کے ہجوم سے بھر جاتیں، راستے چند لمحوں کے لیے بند ہو جاتے اور دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی عظیم الشان جلوس گزر رہا ہو۔ آج وہ منظر صرف یادوں کا حصہ رہ گیا ہے، مگر میری نگاہوں میں آج بھی تازہ ہے۔
میری آغوش صرف بھٹکل تک محدود نہیں رہی بلکہ اطراف و اکناف کے دیہات اور شہروں سے بھی طلبہ میرے پاس علم حاصل کرنے آتے رہے۔ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، میں نے کبھی مذہب، زبان، ذات یا طبقے کی بنیاد پر کسی میں فرق نہیں کیا۔ میری نظر میں ہر طالب علم ایک امانت تھا، جسے تعلیم، تربیت اور کردار کی دولت سے آراستہ کرکے ایک بہتر انسان بنانا میرا فرض تھا۔
مجھے بجا طور پر فخر ہے کہ میری گود میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ آج دنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میرے سابق طلبہ میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، اساتذہ، وکلاء، سرکاری افسران، صنعت کار، کامیاب تاجر، سماجی رہنما اور دینی شخصیات شامل ہیں۔ ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی میرے فرزند اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ان کی کامیابیاں ہی میرا اصل سرمایہ، میری پہچان اور میری سب سے بڑی کمائی ہیں۔
میرے اس کامیاب سفر کے پیچھے صرف میری عمارت یا نصاب کا کردار نہیں تھا بلکہ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں میری آبیاری اور قوم کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیں۔ انہوں نے صرف کتابوں کا علم منتقل نہیں کیا بلکہ کردار، دیانت، اخلاص، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کے وہ سبق بھی دیے جن کی خوشبو آج بھی میرے فرزندوں کی زندگیوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
میرے اساتذہ میں مولانا شریف محی الدین صاحب اکرمی، مولانا عبد الحمید ندوی، ماسٹر محمود خیال اور دیگر اہلِ علم ایسی شخصیات تھیں جنہوں نے تدریس کو عبادت سمجھا۔ انہوں نے علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی کو بھی اپنی ذمہ داری جانا اور طلبہ کو ایک صالح، باوقار اور ذمہ دار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
میرے کامیاب سفر میں میرے ہیڈماسٹروں کا کردار بھی ہمیشہ روشن رہا۔ جناب عثمان حسن جوباپو، جناب محمد یوسف قاضی اور دیگر ہیڈماسٹروں نے اپنی محنت، لگن، حسنِ انتظام اور دوراندیش قیادت کے ذریعے مجھے ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچایا۔ اسی طرح ذمہ داران میں جناب شمس الدین جوکاکو اور جناب ایس۔ ایم۔ یحییٰ نے اپنے حسنِ انتظام، اخلاص اور بے لوث خدمت سے میری ترقی میں چار چاند لگا دیے۔ ان کی خدمات میری تاریخ کا روشن باب ہیں۔
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ حالات نے کروٹ لی، نئے تعلیمی ادارے قائم ہوئے، لوگوں کی ترجیحات بدل گئیں اور آہستہ آہستہ میرے آنگن کی وہ پرانی رونقیں ماند پڑنے لگیں۔ آج میں چند مخلص اساتذہ کے سہارے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہوں، مگر پہلے جیسی گہماگہمی اور علمی فضا اب ماضی کی حسین یاد بن چکی ہے۔
میری شناخت سمجھی جانے والی اردو شاخ بھی آج کمزور پڑ چکی ہے اور گویا اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ صرف ایک تعلیمی شعبے کے زوال کا معاملہ نہیں بلکہ اس زبان کی پژمردگی کا المیہ بھی ہے جو اس خطے کی علمی، تہذیبی اور دینی شناخت رہی ہے۔ میرے مخلص اساتذہ نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر حالات ان کے موافق نہ تھے۔
آج میرے وہ اساتذہ، جنہوں نے اپنی زندگیاں میرے لیے وقف کر دیں، یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی آوازیں آج میرے کمروں میں سنائی نہیں دیتیں، لیکن ان کی یادیں، ان کی محنت اور ان کی دعائیں آج بھی میرے وجود میں زندہ ہیں۔
دکھ تو سب سے زیادہ اس بات کا ہے کہ آج بعض لوگ میری ایک صدی پر محیط خدمات کو فراموش کرکے مجھے ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ایک زمانے میں پورے علاقے کی علمی شناخت میں ہی تھا۔ آج جن اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز اور سماجی میدانوں میں میرے تعلیم یافتہ افراد خدمات انجام دے رہے ہیں، وہی میری عظمت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج انجمن حامیٔ مسلمین کی جس مسند پر بیٹھ کر ذمہ داران اس عظیم تعلیمی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، وہ مسند بھی اسی مادرِ علمی کی آغوش میں پروان چڑھی ہوئی روایت کا تسلسل ہے۔ انجمن کی تعلیمی بنیاد، اس کی شناخت اور اس کی تاریخ میں میرا حصہ بنیادی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اس لیے میری حفاظت درحقیقت انجمن کی اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے اسلاف کی امانت کی حفاظت ہے۔
آج میری عمارت کو خستہ حال کہہ کر نظرانداز کیا جاتا ہے، حالانکہ کسی ادارے کی عظمت اس کی دیواروں سے زیادہ اس کی تاریخ، اس کی روایات اور اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر وقت پر میری مناسب دیکھ بھال کی جاتی تو آج بھی میری رونقیں برقرار ہوتیں۔ میرے ہی شہر میں ایسی کئی عمارتیں موجود ہیں جو ایک صدی سے زیادہ پرانی ہونے کے باوجود آج بھی اپنی شان کے ساتھ کھڑی ہیں، کیونکہ ان کی حفاظت کی گئی۔ افسوس کہ جس ادارے نے ہزاروں افراد کو علم دے کر ترقی کی راہیں دکھائیں، آج اسی کو فراموش کر دیا گیا۔
میرا رفیق انجمن گراؤنڈ بھی آج میری زبوں حالی پر اشک بار ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہی میدان شہر کی سماجی، تعلیمی اور قومی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ تحریکیں، انتخابات، جلسے، جلوس، کھیلوں کے مقابلے، سالانہ گیڈرنگ، ڈرامائی پروگرام اور قومی تقریبات اسی میدان کی رونق ہوا کرتے تھے۔ نامور مہمان تشریف لاتے، این۔سی۔سی اور اسکاؤٹس کے طلبہ کی مارچ پاسٹ حاضرین کو مسحور کر دیتی اور پورا ماحول علم، نظم و ضبط اور وقار کا آئینہ دار بن جاتا تھا۔ ان تمام تقریبات کے کامیاب انعقاد میں جناب ایس۔ ایم۔ یحییٰ کی محنت اور دوراندیشی کا نمایاں کردار تھا۔
اسی طرح عثمان حسن ہال بھی آج خاموش کھڑا اپنی سنہری یادوں کو تازہ کر رہا ہے۔ یہی بھٹکل کا مرکزی ہال تھا جہاں علمی، ادبی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے تھے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں میرے طلبہ نے تقریر کرنا، اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا اور زندگی کے مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ حاصل کیا۔
میں انجمن کے ذمہ داران سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں کر رہا، نہ ہی کسی پر الزام دھرنا میرا مقصد ہے۔ میں تو صرف اپنے دل کی وہ خاموش کسک بیان کر رہا ہوں جو ایک صدی سے قوم کی خدمت کرنے والے ایک تعلیمی ادارے کے سینے میں آج بھی موجزن ہے۔
مجھے اس بات پر بھی بجا طور پر فخر ہے کہ بھٹکل کے بے شمار خاندانوں کی دو، دو بلکہ تین، تین نسلیں میری آغوش میں پروان چڑھیں۔ کسی نے یہاں طالب علم کی حیثیت سے تعلیم حاصل کی، کسی نے استاد بن کر میری خدمت کی اور کسی نے میرے نظم و نسق میں شریک ہو کر میری ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔
میرے ایک فرزند ماسٹر نعیم قاضی نے میری آغوش میں تعلیم حاصل کی، پھر میری ہی خدمت کا شرف پایا اور اسی نسبت کے ساتھ وظیفہ یاب ہوئے۔ ان کے والد مرحوم جناب عبدالکریم صاحب، ان کے سسر ماسٹر محمود خیال، جناب محمد یوسف قاضی صاحب اور خاندان کے دیگر افراد نے بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق میری خدمت انجام دی۔ ان کے برادران، عزیز و اقارب اور نئی نسل بھی میری آغوش سے فیض یاب ہو کر مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ بھٹکل کے بے شمار خاندانوں کی مشترکہ تاریخ ہے۔
آج بھی میں اپنی قوم، اپنے سابق طلبہ، اہلِ خیر، والدین اور نوجوان نسل کو امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری پکار ضرور سنیں گے۔ اگر وہ میری سرپرستی کریں، میری تاریخی حیثیت کو محفوظ رکھیں اور میرے احیاء کے لیے متحد ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب ایک بار پھر میرے صحن میں بچوں کی چہل پہل ہوگی، میرے کمروں میں علم کی صدائیں گونجیں گی اور میں دوبارہ اسی شان و شوکت کے ساتھ قوم کی خدمت انجام دوں گا جس مقصد کے لیے مجھے قائم کیا گیا تھا۔
میں صرف اینٹ، پتھر اور دیواروں کا مجموعہ نہیں ہوں بلکہ ایک صدی کی علمی تاریخ، تہذیبی شناخت، تعلیمی وراثت اور قوم کے روشن مستقبل کا امین ہوں۔ مجھے زندہ رکھنا صرف ایک اسکول کو بچانا نہیں بلکہ اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے اسلاف کی امانت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنا ہے۔
آخر میں اپنی پوری قوم سے صرف اتنی سی التجا ہے:
ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)




