بھٹکل (فکروخبر نیوز) مورین کٹّے احتجاجی معاملے میں گرفتارافراد میں سے کرناٹک ہائی کورٹ کی دھارواڑ بنچ نے مقدمہ میں نامزد ملزم محمد الیاس کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ واقعے کے بعد درج کیے گئے اس مقدمے میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ملزم کو ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل ہوئی ہے۔
ہائی کورٹ کے جسٹس اننت رام ناتھ ہیگڈے نے محمد الیاس کی جانب سے بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 483 کے تحت دائر درخواستِ ضمانت پر سماعت کے بعد اسے منظور کر لیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 16 جولائی کو درخواست پر حتمی حکم صادر کیا گیا۔ محمد الیاس بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ نمبر 72/2026 میں نامزد ملزمان میں شامل تھے اور تقریباً دو ماہ سے عدالتی تحویل میں تھے۔
پولیس نے ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ جیسے الزامات عائد کیے تھے۔ ضمانت کی کارروائی کے دوران ان کی جانب سے معروف وکلاء ایڈوکیٹ ارشد بالور اور ایڈوکیٹ وی ایم بنکار نے عدالت میں مؤثر پیروی کی۔
فیصلے کے بعد ایڈوکیٹ ارشد بالور اور مقدمے کی قانونی کارروائی کے کوآرڈینیٹر و سماجی کارکن قمر الدین مشائخ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ محمد الیاس اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بڑی راحت کا باعث بنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد الیاس کا مبینہ احتجاجی واقعات میں کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا اور انہیں ناحق مقدمے میں شامل کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ مورین کٹّے تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب پولیس کی نگرانی تعمیر کیا جانے والے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ بعد میں انتظامیہ نے اس مسئلہ کا حل نکالتے ہوئے ڈوائیڈر کے درمیان اسے جگہ دینے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے ڈوائیڈر کے درمیان ایک جگہ اس کے لیے مختص کی گئی۔




