سال 2020 دہلی فسادات:عآپ کونسلر طاہر حسین سمیت 5 افراد ائی بی اہلکار قتل معاملہ میں قصوروار قرار، 6 بری

قومی دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے فروری 2020 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ملازم انکت شرما کے سنسنی خیز قتل کے معاملے میں پیر کے روز اپنا اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے۔ کارکارڈوما عدالت نے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ ملزمان کو قتل اور ہنگامہ آرائی کا مجرم قرار دیا ہے۔ طاہر حسین کے علاوہ جن دیگر چار افراد کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ان میں جاوید، انس، ناظم اور قاسم شامل ہیں۔ عدالت نے اسی معاملے میں سماعت مکمل کرتے ہوئے چھ دیگر نامزد ملزمان کو ثبوت و شواہد کی عدم دستیابی کے باعث باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالتی کارروائی اور دستیاب رپورٹس کے مطابق کارکارڈوما کورٹ نے سابق کونسلر طاہر حسین کو قتل، بلوہ اور ہنگامہ آرائی، کسی سرکاری ملازم کے قانونی حکم کی نافرمانی، مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر فساد برپا کرنے، غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے اور کسی شخص کو خفیہ طور پر قید کرنے کی نیت سے اغوا کرنے کے جرائم کے تحت مجرم پایا ہے۔ عدالت نے طاہر حسین کے خلاف عائد ان تمام سنگین دفعات کو برقرار رکھا ہے، تاہم عدالت نے ان کے خلاف درج مجرمانہ سازش (Criminal Conspiracy) کے الزام کو خارج کر دیا ہے کیونکہ استغاثہ اس مخصوص الزام کو تکنیکی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

سماعت کے دوران عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے بیانات اور دستاویزی شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ طاہر حسین نے مبینہ طور پر ہجوم کو اکسانے اور اشتعال دلانے کا کردار ادا کیا۔ عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود بیانات کے مطابق طاہر حسین نے مبینہ طور پر ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے نازیبا نعرے لگائے اور اشتعال انگیزی کی۔ واضح رہے کہ یہ ایف آئی آر مقتول آئی بی ملازم انکت شرما کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی تھی، جن کی لاش تشدد کے دوران ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔

یہ پورا معاملہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں بھڑکنے والے ہولناک فرقہ وارانہ تشدد سے جڑا ہوا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شروع ہونے والے مظاہرے نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بھیانک خونی فساد کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس بھیانک تشدد کے نتیجے میں مجموعی طور پر 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ سینکڑوں دیگر شدید زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی مختلف رپورٹوں اور زمینی حقائق کے مطابق اس فساد میں جان گنوانے والے افراد کی اکثریت مسلم برادری سے تعلق رکھتی تھی، اور بڑے پیمانے پر اقلیتی آبادی کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عدالت کی جانب سے طاہر حسین اور دیگر کو قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اب ان کی سزا کی مدت کے تعین پر بحث ہوگی۔ قانونی ماہرین کے مطابق قتل اور فسادات کی دفعات کے تحت مجرموں کو عمر قید یا سخت ترین سزا سنائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب مسلم فلاحی اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا موقف رہا ہے کہ ان فسادات کے پیچھے اصل محرکین اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے دیگر بااثر سیاسی چہروں کو اب تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا ہے، جس کی وجہ سے متاثرین کو مکمل انصاف فراہم کرنے کی راہ میں اب بھی کئی سوالات برقرار ہیں۔

شیئر کریں۔