اتر پردیش کے شہر آگرہ میں عوامی مسائل کو سوشل میڈیا پر اٹھانے اور آن لائن اظہارِ رائے کی حدود سے متعلق ایک انتہائی چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آگرہ کے مقامی رہائشی رفیق خان کو ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب رفیق خان نے اپنے علاقے کی انتہائی خستہ حال اور گڑھوں سے بھری سڑک کی ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی، جس میں ترقی کے دعوؤں پر تنقید کے دوران انہوں نے نازیبا زبان کا استعمال کیا۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق رفیق خان نے اپنے محلے کی خستہ حال سڑکوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جس میں جگہ جگہ گہرے گڑھے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو میں سڑک کی بدحالی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یوپی کا وزیر اعلیٰ تکلا! یہ ہے وکاس!’۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور حکام کی نظروں میں آنے کے بعد آگرہ پولیس نے وزیر اعلیٰ کی شان میں گستاخی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے کے الزام میں رفیق خان کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ اتوار 13 جولائی کو ایک نئی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں رفیق خان لاک اپ سے باہر آنے کے بعد ہاتھ جوڑ کر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میں نے ویڈیو بنائی، مجھ سے غلطی ہو گئی، اب کبھی ایسی ویڈیو نہیں بناؤں گا، مجھے معاف کر دیا جائے’۔
آگرہ پولیس نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل ‘ایکس’ پر اس گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی صرف عوامی شکایت پر نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ جیسی آئینی شخصیت کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور قابلِ اعتراض مواد شیئر کرنے پر کی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کریں اور کسی بھی قسم کی عوامی شکایت درج کراتے وقت قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں رہیں۔ پولیس کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسی کسی بھی پوسٹ یا ویڈیو کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہو یا جس میں فحش، گمراہ کن اور نازیبا زبان استعمال کی گئی ہو۔
انسانی حقوق اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ عوامی مسائل اور سڑکوں کی بدحالی پر آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن کسی بھی عوامی نمائندے یا وزیر اعلیٰ کے خلاف ذاتی نوعیت کے نازیبا تبصرے کرنا قانونی کارروائی کو دعوت دیتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار اور توہین آمیز گفتگو کے درمیان کی باریک لکیر پر بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلم کمیونٹی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے اکثر یہ خدشات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف ایسے معاملات میں کارروائی بہت تیزی سے کی جاتی ہے، لہذا یہ ضروری ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کا مواد اپ لوڈ کرتے وقت انتہائی احتیاط اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی قسم کے قانونی بحران سے بچا جا سکے۔
آگرہ پولیس نے رفیق خان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور معافی نامے کے بعد اب قانونی عمل کے مطابق اگلی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور عوامی شکایات کے حل کے لیے متعلقہ محکمے موجود ہیں اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شکایات مناسب سرکاری پورٹلز اور ذمہ دارانہ انداز میں حکام تک پہنچائیں تاکہ ترقیاتی کام بھی ہو سکیں اور امن و امان کی صورتحال بھی برقرار رہے۔




