ملک کی اعلیٰ ترین عدالت، سپریم کورٹ کی جانب سے اتر پردیش کے تین انتہائی حساس اور بڑے مذہبی تنازعات کو باہمی رضامندی اور مصالحت سے حل کرنے کی کوششوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ وارانسی کے گیان واپی مسجد معاملہ ، متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد اور سنبھل کی تاریخی شاہی جامع مسجد معاملہ میں شامل ہندو اور مسلم دونوں فریقین نے عدالت کی جانب سے دی گئی تصفیے کی تجویز کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ فریقین نے واضح کیا ہے کہ وہ ان حساس معاملات کو کسی بھی قسم کی بیرونی مصالحت کے بجائے مکمل طور پر عدالتی کارروائی اور قانونی شواہد کے ذریعے ہی آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں طویل عرصے سے زیر التوا پیچیدہ تنازعات کے پرامن اور باہمی حل کے لیے اپنے خصوصی اقدام ‘سمادھان سماروہ 2026’ کے تحت ان تینوں مقدمات کے فریقین سے رضامندی مانگی تھی۔ عدالت کا مقصد تھا کہ صدیوں پرانے ان مذہبی امور کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، لیکن دونوں ہی فریقین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ مسلم فریق کا ماننا ہے کہ پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 (عبادت گاہوں کا قانون) کے تحت 15 اگست 1947 کو موجود کسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ان مساجد کے تحفظ کے لیے قانونی لڑائی ہی واحد راستہ ہے، جبکہ ہندو فریق عدالتی سروے اور تاریخی دعوؤں کی بنیاد پر ہی فیصلے کا خواہاں ہے۔
ان تینوں تنازعات کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو وارانسی کا گیان واپی مقدمہ کمپاؤنڈ کی مذہبی حیثیت پر مبنی ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے تہہ خانے میں 1993 تک باقاعدہ پوجا کی جاتی تھی، جسے اس وقت کی ملائم سنگھ یادو حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر رکوا دیا تھا، اور ان کا الزام ہے کہ 17 ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے حکم پر قدیم مندر کے حصے کو منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے برعکس مسلم فریق اور انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کا مضبوط موقف ہے کہ یہ مسجد اورنگ زیب کے دورِ حکومت سے بھی پہلے کی ہے اور مسلمان ہمیشہ سے اس عمارت پر قابض اور وہاں نماز ادا کرتے رہے ہیں۔
دوسرا بڑا تنازع متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجدکا ہے، جو شری کرشنا وراجمان کی طرف سے دائر سول مقدمے پر مرکوز ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کی تعمیر بھگوان کرشنا کی جائے پیدائش کی زمین پر کی گئی ہے، اس لیے مسجد کو وہاں سے ہٹایا جائے۔ ابتدائی طور پر ایک سول کورٹ نے 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا، لیکن بعد میں متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپیل پر اس فیصلے کو پلٹ دیا، جس کے بعد اب یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں کے زیر غور ہے۔
تیسرا تنازع سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق ہے جو کہ حالیہ دنوں میں شدید سرخیوں میں رہا۔ نومبر 2024 میں ایک سول کورٹ کی جانب سے مسجد کے اچانک سروے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد 24 نومبر 2024 کو جب دوسری سروے ٹیم وہاں پہنچی تو مقامی سطح پر شدید عوامی احتجاج اور تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اس تصادم، پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے دوران فائرنگ میں چار مسلم نوجوان جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مسلم برادری میں شدید بے چینی پھیل گئی تھی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اب سپریم کورٹ کی مصالحتی تجویز مسترد ہونے کے بعد ان تینوں تاریخی و حساس تنازعات کی سماعت باقاعدہ طور پر روایتی عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی جاری رہے گی اور عدالت کا حتمی فیصلہ ہی ان کا مستقبل طے کرے گا۔




