بھٹکل (فکروخبر نیوز) جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبۂ حفظ کے سینئر استاذ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا کی وفات پر جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں آج صبح قریب بارہ بجے ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ذمہ دارانِ جامعہ، اساتذہ، طلبہ اور مرحوم کے رفقاء و شاگردوں نے شرکت کرتے ہوئے ان کی دینی و تعلیمی خدمات کو یاد کیا۔
مقررین نے مرحوم کی زندگی کو صبر، استقامت اور خدمتِ قرآن کا روشن نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ظاہری بینائی سے محروم رکھا تھا، لیکن قرآنِ کریم کی محبت، غیر معمولی حافظہ اور دینی بصیرت سے نوازا تھا۔ انہوں نے زندگی بھر اپنی معذوری کو کمزوری بننے نہیں دیا بلکہ عزم و ہمت کے ساتھ قرآنِ کریم کی خدمت میں مصروف رہے۔
اجلاس میں مرحوم کے تعلیمی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے استاد حافظ شمیم اخترمرحوم کی خصوصی محنت اور توجہ سے حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ بعد ازاں تقریباً 29 برسوں تک جامعہ اسلامیہ کے شعبۂ حفظ میں تدریسی خدمات انجام دیں، جہاں ان کی نگرانی میں سینکڑوں طلبہ نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ مقررین نے کہا کہ وقت کی پابندی، ذمہ داری کا احساس اور طلبہ سے شفقت جیسی نمایاں صفات کے حامل یہ شخص آخری دن تک اپنی تدریسی ذمہ داری نبھاتے رہے۔
تعزیتی اجلاس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی عزتِ نفس، خودداری اور توکل علی اللہ کے ساتھ گزاری۔ امامت اور تدریس کے ذریعے انہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کی بلکہ قرآنِ کریم کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔ اس موقع پر خصوصی طور پر بانی وسابق ناظمِ جامعہ جناب الحاج محی الدین منیری رحمۃ اللہ علیہ کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا گیا جنہوں نے پہلے حافظ اشفاق صاحب کو جامعہ میں داخلہ کی اجازت مرحمت نہیں کی ، اس کے باوجود ان کے والد محترم نے ہار نہیں مانی بلکہ بار بار جامعہ کے چکر کاٹتے رہے۔ آخرکار منیری صاحب نے انہیں داخلہ دلایا اور مرحوم نے وہ کر دکھایا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ انہوں نے بھٹکل کے پہلے نابینا حافظِ قرآن بنے کا شرف حاصل کیا اور زندگی کی آخری سانس تک اسی حفظ کے نظام سے جڑے رہے۔
مقررین میں صدرِ جامعہ مولانا عبدالعلیم قاسمی ، نائب صدر جناب ماسٹر شفیع صاحب ، ناظمِ جامعہ مولانا محمد طلحہ ندوی ، مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد ندوی ، مولانا عبدالرب ندوی ، مولانا فاروق ندوی ، مولانا عبدالمتین منیری ، مولانا عرفان ندوی ، مرحوم کے بھائی عبدالباسط وغیرہ نے مرحوم کے متعلق اپنے احساسات کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر نائب مہتمم مولانا عبدالعیم ندوی نے مرحوم کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، ان کی قرآنی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔




