تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)
کل مورخہ 7/ جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔
یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہیں اپنے بچے کو حافظ بنانے کی تڑپ تھی، کیونکہ اس بچے کو آنکھوں کی بینائی سے محرومی کے باوجود قرآن سے جو محبت تھی، اور اسے پڑھنے کی جو لگن تھی، اسے دیکھ کر آپ کی چھٹی حس کہ رہی تھی کہ اگر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو یہ بچہ ایک نہ ایک دن قرآن کا حافظ بن کر ان کی نجات کا ذریعہ بنے گا۔
اسی نیک جذبے کے ساتھ ان کے والد نے ایک نہیں تین بار جامعہ کے چکر کاٹے تھے، اور انہیں یہاں سے حافظ قرآن بناکر نکالنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن چونکہ یہ بچہ بغیر سہارے ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا تھا،تو ذمہ داران نے جن میں ناظم جامعہ بھی شامل تھے، اس بچے کو جامعہ میں داخل کرنے سے معذرت کا اظہار کررہے تھے۔ لیکن وہ جامعہ سے باربار کے انکار سننے کے باوجود مایوس نہ ہوئے، بالآخر درجہ حفظ کے ایک استاد حافظ شمیم صاحب کو یہ دیکھ کر ترس آگیا، اور انہوں نے ناظم جامعہ کو یقین دلایا کہ آپ فکر نہ کریں، اسے حافظ بنانے کی ذمہ داری ان شاء اللہ میں لیتا ہوں۔
حافظ صاحب شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے، منیری صاحب کو اپنے قائم کردہ جامعۃ الصالحات کی بڑی فکر رہتی تھی، اور انہوں نے ابتدا میں مالیگاؤں سے جامعۃ الصالحات کی فارغ التحصیل استانیوں کو بھٹکل میں بسا کر ان کی یہاں پر خدمات حاصل کرنے کے لئے بڑے جتن کئے تھے، مالیگاؤں سے آنے والی استانیوں میں محترمہ شکیلہ بھی تھیں، جو مولانا عبد الستار معروفی سابق شیخ الحدیث دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی پوتی تھیں، منیری صاحب نے ذاتی دلچسپی لے حافظ شمیم کے ساتھ شکیلہ آپا کا گھر بسایا تھا۔
حافظ شمیم صاحب نے اس معذور بچے پر خوب محنت کی، درجے کے اوقات میں بھی اور علاوہ بھی اس کی فکر میں مسلسل لگے رہے، کبھی جامعہ آباد سے دور شہر میں جا کر بھی غیر درسی اوقات میں انہیں پڑھاتے تھے، تجوید کے لئے ان کی منہ میں انگلیاں ڈال کر قواعد بتاتے تھے، اس طرح آپ نے چند سالوں میں حفظ قرآن مکمل کیا، یہ سنہ 1993ء کی بات ہے، اپنے فرزند کو حافظ دیکھ کراپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاکر آپ تھوڑے ہی عرصہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر دو مہینے سے بھی کم عرصہ میں ان کے بڑے بھائی الطاف نے بھی اس دنیا کو داغ مفارقت دے دی، اور ان کے کمزور کندھوں پر اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی بہن کی کفالت کی ذمہ داری آگئی۔
ان کی زندگی کا ایک زمانہ وہ تھا جب وہ سبھی پر بار بنے ہوئے تھے،اور اب وہ زمانہ آگیا تھاکہ ان کے ناتوان کندھوں پر اتنا بڑا بوجھ آگیا۔ لیکن اللہ مسبب الاسباب ہے، آپ جامعہ کے شعبہ تحفیظ قرآن مین محفظ کی حیثیت سے وابستہ ہوئے، اور پورے ۲۹ سال تک بحسن وخوبی یہ ذمہ داری انجام دیتے، اور آپ کے سامنے زانو پھیلا کرسینکڑوں حفاظ کرام تکمیل حفظ کے زیور سے آراستہ ہوئے، پھر آپ کو بھٹکل کی قاضیا مسجد میں امامت کی ذمہ داری مل گئی، اس طرح آپ نے عزت نفس کے ساتھ زندگی ذمہ داریوں کا جو بوجھ اٹھایا وہ ایک مثال بن گیا۔
الحاج محی الدین منیری مرحوم کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹکل کو دور حاضر کا پہلا حافظ قرآن مرحمت فرمایا تھا، انہیں بھٹکل کے اس پہلے نابینا حافظ قرآن کی سرپرستی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ ان کے حفظ قرآن میں داخلہ کے بعد انہیں لانے لے جانے کے لئے ایک رفیق کا بھی آپ نے انتظام اس وقت کردیا تھا، اور ایک وقت ایسا آیا کہ جامعہ سے سرکاری تینگنگڈی بس پر بیٹھ کر آپ جامعہ آباد سے گھر لوٹ رہے تھے، تو ایک سیٹ پر حافظ اشفاق شہر جانے کے لئے کونے پر بیٹھے تھے، منیری صاحب آہستہ سے ان کی بغل میں سیٹ پر بیٹھ گئے، اور نرمی سے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معافی طلب کی کہ میں نے تین مرتبہ آپ کے داخلہ سے انکار کیا تھا، لیکن آپ پرعزم نکلے، اوراپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوکر نکلے ، کردار کے یہ کیسے بلند لوگ تھے!، زندگی میں انہیں دیکھنا ہم جیسوں کے لئے کتنا بڑا اعزاز ہے؟۔
حافظ اشفاق نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۵۵) بہاریں دیکھیں، ان میں سے گذرنے والا ہر دن آپ کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں تھا، آنکھوں کی تاریکی کو آپ نے قرآن کریم کی روشنی سے منور کردیا،معذوری کے باوجود اپنی زندگی بڑے باوقار انداز سے، عزت نفس کے ساتھ گذار دی، شادی بھی کی ، اور بچے کے والد بھی بنے، جس شام آپ کا انتقال ہوا، اس وقت تحفیظ القرآن میں اپنے دن کی پوری ڈیوٹی انجام دے کر گھر واپس جارہے تھے تو سینے میں کچھ جلن محسوس ہوئی، پھر وہاں سے بلاوا آگیا جہاں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں لوٹتا، محمد اشفاق ہماری ظاہری آنکھوں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوگئے، لیکن ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، جامعہ کے درو دیوار سے ان کی خوشبو ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ ، کتنی معصوم زندگی گذاری انہوں نے، اور کیسے پاک وصاف ہوکر اپنے خالق کی طرف وہ لوٹے ہیں، ان جیسوں کے درجات کی بلندی کے لئے دست بہ دعا ہونا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، لیکن کیا یہ درست نہیں کہ یہ حضرات ہماری دعاؤں سے بہت بلند ہیں۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ
2026-07-09



