مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے علاقے باروئی پور میں 11 سالہ معصوم مسلم بچی کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کے دل دہلا دینے والے واقعے کے مرکزی ملزم پربھاس منڈل کو پولیس نے ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق بدھ کی علی الصبح ساڑھے بارہ بجے کے قریب یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ملزم کو جائے وقوعہ کی ازسرنو تشکیل اور شواہد اکٹھا کرنے کے لیے سورجیا پور لے گئی تھی۔ ریاست میں مئی کے مہینے میں نئی بی جے پی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد یہ پہلا ہائی پروفائل پولیس انکاؤنٹر ہے۔
سینئر پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق پربھاس منڈل تفتیش کے دوران مسلسل متضاد بیانات دے رہا تھا اور تحقیقاتی ٹیم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جائے وقوعہ پر تفتشی عمل کے دوران ملزم نے اچانک ایک پولیس اہلکار کا سروس ہتھیار چھین لیا اور فرار ہونے کی نیت سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے جوابی گولی چلائی جس کے نتیجے میں ملزم شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر باروئی پور سب ڈویژنل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
اس سنسنی خیز واقعے کے بعد ملزم کی ماں سندھیا منڈل نے اپنے بیٹے کے گھناؤنے جرم کی مذمت کرتے ہوئے اس کی لاش لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو اپنے کیے کی سزا مل گئی ہے اور وہ اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا نشے کا عادی ہو چکا تھا اور اس نے کبھی خاندان کی نصیحتوں پر عمل نہیں کیا۔ پربھاس منڈل کو پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا جس میں وہ مقتولہ بچی کے لاپتہ ہونے سے کچھ دیر قبل اس کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ معصوم بچی کی لاش پانچ جولائی کو ایک تالاب سے بوری میں بند ملی تھی۔
اس وحشیانہ واقعے کے بعد علاقے میں زبردست عوامی غم و غصہ دیکھا گیا تھا اور اقلیتی برادری سمیت مقامی شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں، گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پولیس املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس افراتفری کے دوران ہجوم کے تشدد کے نتیجے میں ایک بے قصور شہری کی جان بھی چلی گئی تھی۔ پولیس اب تک اس ہولناک کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے جن میں کبیر ملا، آنند سردار اور دیباکر سردار شامل ہیں، جبکہ تشدد پھیلانے کے الزام میں بھی 20 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے گزشتہ روز باروئی پور کا دورہ کر کے امن و امان کی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا تھا اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو 72 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر ‘زیرو ٹولرینس’ کی پالیسی اپنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس انکاؤنٹر سے ریاست میں سنگین جرائم کے خلاف سخت ترین پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم انسانی حقوق کے دائرے میں حراستی ہلاکتوں کے قانونی پہلوؤں پر بھی بحث شروع ہو سکتی ہے۔



