بنگلورو(پریس ریلیز) آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرز ایسوسی ایشن (AIITA) کرناٹک نے ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کمپیوٹر اساتذہ کی بھرتی کے لیے حال ہی میں جاری کردہ مسودہ قوانین (Draft Recruitment Rules) میں عائد کردہ اس شرط کو فوری طور پر حذف کیا جائے جس کے تحت امیدواروں کے لیے پی یو سی (PUC) میں کنڑ کو بطور زبان پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اس غیر سائنسی شرط کو ختم کر کے تمام اہل امیدواروں کو روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت ‘آئیٹا’ کرناٹک کے ریاستی صدر محترم محمد رضا مانوی نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے پرنسپل سکریٹری کو ایک تفصیلی مکتوب اور اعتراض نامہ سونپا ہے۔ یہ اعتراض محکمہ کی جانب سے 29 جون کو جاری کردہ نوٹیفکیشن (نمبر EP 50 DPI 2026 ) کے خلاف درج کرایا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ کرناٹک کے پری یونیورسٹی (PUC) تعلیمی نظام میں تمام طلبہ کے لیے کنڑ پڑھنا لازمی نہیں ہے بلکہ طلبہ کو انگریزی، اردو، ہندی اور دیگر زبانوں کے انتخاب کا اختیار ہوتا ہے۔ ایسے میں خاص طور پر اردو میڈیم سے ایس ایس ایل سی (SSLC) پاس کرنے والے طلبہ پی یو سی میں انگریزی اور اردو کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ بی ایڈ اور کمپیوٹر کی اعلیٰ ڈگریاں رکھنے کے باوجود محض پی یو سی میں کنڑ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پی یو سی کی شرط کے بجائے ایس ایس ایل سی میں کنڑ پڑھنے یا الیکشن کمیشن/حکومت کے مقرر کردہ کنڑ اہلیتی امتحان (Language Test) پاس کرنے والے امیدواروں کو بھی اہل تسلیم کیا جائے۔




