مہاراشٹرا کے معروف صنعتی شہر مالیگاؤں میں زبان اور لسانی حقوق کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ہندو تنظیم ‘سکل ہندو سماج’ کی جانب سے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر کے باہر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جسے ‘جن آکروش مورچہ’ کا نام دیا گیا۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے کارپوریشن کی عمارت پر نصب اردو زبان کی شناختی تختی کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ کارپوریشن کی اس تاریخی عمارت کا نام ملک کے پہلے وزیر تعلیم اور مجاہد آزادی مولانا ابو الکلام آزاد کے نام پر ‘بھارت رتن مولانا ابو الکلام آزاد بھون’ رکھا گیا ہے، جہاں ہندی اور مراٹھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بورڈ آویزاں ہے۔
مظاہرے کے دوران ہندو تنظیم کے رہنما ہرشا ٹھاکر نے مقامی انتظامیہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اردو زبان کی موجودگی پر سخت اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس سے قبل کسی بھی سرکاری عمارت پر اردو زبان میں نام لکھے ہوئے نہیں دیکھے۔ ہرشا ٹھاکر نے اپنے بیان میں کہا کہ کیا مالیگاؤں پاکستان ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی آئین میں سرکاری کاموں یا ناموں کے لیے اردو لکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس لیے اس تختی کو فوری طور پر وہاں سے ہٹایا جائے۔ اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں ایک نئی آئینی اور لسانی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس متنازع بیان کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قانون دانوں اور شہریوں نے احتجاج کرنے والوں کو یاد دلایا کہ اردو کوئی غیر ملکی زبان نہیں بلکہ خالصتاً ہندوستان کی سرزمیں پر پروان چڑھنے والی زبان ہے، جسے آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں باضابطہ طور پر تسلیم شدہ قومی زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ اتر پردیش، بہار اور تلنگانہ جیسی متعدد بھارتی ریاستوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی بڑی آبادی موجود ہے، وہاں عوامی سہولت اور شمولیت کے لیے ایسی تختیاں لگانا انتظامیہ کا ایک آئینی اور عملی قدم ہے۔
اس احتجاج نے ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد کی تاریخی خدمات اور ان کی وراثت کو بھی دوبارہ عوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ مالیگاؤں کے مقامی شہریوں اور دانشوروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ عمارت ایک ایسے عظیم رہنما کے نام سے منسوب ہے جنہوں نے ملک کی آزادی اور جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اردو زبان کو کسی مخصوص ملک یا مذہب سے جوڑنا ملک کی مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی ثقافت پر حملہ ہے۔ مالیگاؤں میں اردو بولنے والوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے، اور مقامی انتظامیہ کا یہ اقدام آئین کے تحت تمام زبانوں کو تحفظ دینے کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
فی الوقت مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس احتجاج اور نام ہٹانے کے مطالبے پر کوئی باضابطہ فیصلہ یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ملک میں لسانی شناخت، آئینی حقوق اور اقلیتوں سے وابستہ ثقافتی علامات کو کس طرح نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف قانون اور آئین کے محافظ ان حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔




