اتر پردیش کے شہر متھرا میں تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد اور شری کرشنا جنم بھومی تنازع کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کی ایک اہم کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی خصوصی ہدایات اور ‘سَمادھان سماروہ 2026’ مہم کے تحت متھرا کی خصوصی لوک عدالت میں فریقین کے درمیان مصالحتی عمل کے لیے ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا تھا، تاہم مسلم فریق کی جانب سے کسی نمائندے یا وکیل کے حاضر نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات چیت بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئی۔ دستریاب رپورٹس کے مطابق، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سریندر پرساد کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں ہندو فریق نے اپنے دستاویزات پیش کیے لیکن عیدگاہ کمیٹی کی عدم موجودگی کے سبب عدالت نے باضابطہ طور پر مصالحتی عمل کی ناکامی کو ریکارڈ کر لیا۔
شمالی ہند کے اس دیرینہ مذہبی اور اراضی تنازع کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں، جہاں ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں شری کرشنا کی جائے پیدائش پر بنے مندر کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی تھی۔ دوسری طرف، مسلم فریق اور عیدگاہ انتظامیہ کمیٹی کا موقف رہا ہے کہ یہ مسجد صدیوں سے قائم ہے اور پوجا گاہوں کے تحفظ کے قانون (پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991) کے تحت 15 اگست 1947 کو موجود تمام مذہبی مقامات کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ متھرا کی مقامی عدالتوں سے لے کر الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک اس تنازع سے متعلق تقریباً 18 عرضیاں زیر سماعت ہیں، جن میں عیدگاہ کی اراضی پر مندر کی بحالی اور سائنسی سروے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
اس خصوصی مصالحتی اجلاس میں ہندو فریق کی نمائندگی کرنے والے وکیل مہیندر پرتاپ سنگھ اور شری کرشنا جنم بھومی ٹرسٹ کے وکلاء نے تقریباً آدھے گھنٹے تک اپنے دلائل دیے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہندو فریق کے وکلاء نے ایک نئی تجویز پیش کی کہ اگر مسلم فریق اس متنازع اراضی سے مسجد کا ڈھانچہ ہٹانے اور اپنا دعویٰ واپس لینے پر راضی ہو جائے، تو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مسجد کی عمارت کو محفوظ طریقے سے برج کے علاقے سے باہر کسی موزوں جگہ پر منتقل کرنے کے لیے زمین فراہم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مسلم فریق کی عدم موجودگی کے باعث اس تجویز پر ان کا کوئی ردعمل یا باضابطہ موقف سامنے نہیں آ سکا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، لوک عدالت کی اس کارروائی کا مقصد عدالت عظمیٰ میں ہونے والی حتمی سماعت سے قبل ضلعی سطح پر باہمی مفاہمت کے امکانات کو تلاش کرنا تھا۔ چونکہ مقامی سطح پر فریقین کے مابین براہ راست مکالمہ نہیں ہو سکا، اس لیے اب اس حساس معاملے پر تمام نظریں اعلیٰ عدلیہ پر ٹک گئی ہیں۔ اتر پردیش اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کی نگرانی میں ہونے والی اس کارروائی کی ناکامی کی رپورٹ اب سپریم کورٹ کو ارسال کی جائے گی، جہاں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 21، 22 اور 23 اگست کو اس کیس کی تفصیلی سماعت ہونی ہے۔




