دہرادون میں مسلم مخالف مہم تیز : ہندوتوا شرپسند کی مسلم نوجوان پر وحشیانہ تشدد کی ویڈیووائرل

اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں نفرت انگیز بیانیے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا ایک اور انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دہرادون کی ہندوتوا تنظیم ‘سناتن سنسکرتی’ کی سرکردہ لیڈر رادھا سیموال دھونی نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نہ صرف ایک مسلم نوجوان پر وحشیانہ تشدد کیا بلکہ مقامی شہریوں کو سخت الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے مکانات کرائے پر نہ دیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق 30 جون کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں رادھا سیموال دھونی کو ایک نوجوان مسلم لڑکے پر خواتین کو گھورنے کا بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے سرعام مار پیٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں مذکورہ ہندوتوا لیڈر نوجوان کے بال کھینچتی ہے، اسے بار بار تھپڑ مارتی ہے اور مسلم کمیونٹی کے خلاف انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتی ہے۔ متاثرہ نوجوان مسلسل خود کو بے قصور بتاتا رہا اور رحم کی اپیل کرتا رہا، لیکن اس کے باوجود رادھا سیموال نے اس پر تشدد جاری رکھا اور دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دینا بند کریں۔

اس واقعے کے دوران رادھا سیموال دھونی نے مقامی ہندو مکان مالکان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی مسلمانوں کو اپنے ہاں کرائے دار رکھا ہے، وہ ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائیں گی۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مکان مالکان اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت کے بجائے محض کرائے کی رقم کی خاطر اقلیتی برادری کے لوگوں کو اپنے گھروں میں رکھ رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مذکورہ خاتون لیڈر نے اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے معاشی و سماجی مقاطعے (Boycott) کی کھلی اپیلیں کرتی رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے اتراکھنڈ میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران اقلیتوں کے خلاف تشدد اور مزارات جیسی مذہبی عمارتوں کو نشانہ بنانے یا منہدم کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رادھا سیموال دھونی پر ماضی میں بھی مبینہ جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام لگا کر لوگوں کو ہراساں کرنے اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے متعدد الزامات عائد ہو چکے ہیں۔ اس طرح کی کھلی غنڈہ گردی اور مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے سخت کارروائی نہ کیے جانے پر مسلم تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے اور شہریوں نے اتراکھنڈ پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نفرت پھیلانے والی اور قانون کو ہاتھ میں لینے والی اس ہندوتوا لیڈر کے خلاف سخت قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے فوری گرفتار کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ محض شک کی بنیاد پر کسی کو سڑک پر پیٹے یا کسی کمیونٹی کے معاشی بائیکاٹ کی دھمکی دے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اتراکھنڈ انتظامیہ اور پولیس اس سرعام غنڈہ گردی پر کیا کارروائی کرتی ہے تاکہ ریاست کا پرامن ماحول برقرار رہ سکے۔

شیئر کریں۔