قومی راجدھانی دہلی کے اتم نگر علاقے میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک انتہائی دردناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں محض 8 ہزار روپے کے بقایا قرض پر ایک 23 سالہ مسلم نوجوان محمد عذیب کو اغوا کرنے کے بعد 8 گھنٹے تک بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مقتول پیشے سے ریپیڈو بائیک رائیڈر تھا اور حال ہی میں ایک بچے کا باپ بنا تھا۔ اس بہیمانہ قتل نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے اور دارالحکومت میں قانونی نظام کے ساتھ ساتھ تھ بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق، محمد عذیب نے اپنی اہلیہ کی ڈلیوری اور ہسپتال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سندیپ نامی شخص سے 50 ہزار روپے کا قرض لیا تھا۔ عذیب نہایت ایمانداری سے 42 ہزار روپے کی رقم واپس بھی کر چکا تھا اور صرف 8 ہزار روپے باقی رہ گئے تھے۔ اس معمولی رقم کی وصولی کے لیے سندیپ اور اس کے ساتھیوں للت اور موہت نے 26 جون کو عذیب کو اغوا کیا اور اسے نجف گڑھ کے ایک سنسان مقام پر لے گئے۔ وہاں ان ظالموں نے عذیب کو لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس سے اس کے اندرونی اعضاء شدید طور پر متاثر ہو گئے۔ اس وحشیانہ تشدد کے بعد ملزمان نے عذیب کی ادھ موئی لاش کو اس کے گھر کے باہر پھینک کر فرار ہو گئے۔
مقتول کے اہل خانہ نے بتایا کہ اس واقعے سے تقریباً 15 دن پہلے بھی یہ لوگ عذیب کی غیر موجودگی میں اس کے گھر آئے تھے اور خاندان والوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ عذیب کی ہڈیاں توڑ دیں گے۔ بدقسمتی سے ملزمان نے اپنی اس بزدلانہ دھمکی کو انتہائی سفاکی کے ساتھ حقیقت کا روپ دے دیا۔ عذیب کو شدید زخمی حالت میں دیکھ کر گھر والے فوری طور پر ہسپتال لے کر بھاگے، لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے دم توڑ دیا۔ عذیب کے والد کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنے پورے خاندان کا اکیلا سہارا اور نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا، جو اپنے نومولود بیٹے کو جی بھر کر دیکھ بھی نہ سکا۔
اس دردناک واقعے کے بعد عذیب کی بوڑھی ماں رابعہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تڑپتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچے کو بچا نہیں سکیں، ان ظالموں نے اسے اتنی بے رحمی سے پیٹا کہ وہ پوری رات درد سے اپنی ماں کو پکارتا رہا ہوگا۔ عذیب کے بھائی زیب نے اس ہولناک واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مقتول کی اہلیہ صدمے کے باعث بار بار بے ہوش ہو رہی ہیں اور پورا خاندان بکھر کر رہ گیا ہے۔
پولیس نے اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کیس درج کر لیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقامی سماجی تنظیموں اور اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے اس وحشیانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دہلی میں کمزور طبقات اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور سود خوروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی سنگینی کو نمایاں کر دیا ہے۔




