کیا تم مسلم ہو؟‘ٹرک ڈرائیور کے ساتھ مہاراشٹر پولیس کے متعصبانہ رویہ کی ویڈیو وائرل

مہاراشٹر سے سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے روڈ سائیڈ چیکنگ کے دوران ٹرک ڈرائیور کی مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے انتہائی متعصبانہ اور امتیازی ریمارکس دیے گئے۔ اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹریفک پولیس نے ایک ٹرک کو معمول کی تلاشی کے لیے روکا۔ ٹرک ڈرائیور، جس کی شناخت شیام لال راؤ کے طور پر ہوئی ہے اور وہ راجستھان کے ہندو جاٹ برادری سے تعلق رکھتا ہے، نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بحث بڑھنے پر اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ اس دوران ایک پولیس افسر نے غصے میں آکر ڈرائیور سے سوال کیا کہ ”کیا تم مسلم ہو؟“ اور ساتھ ہی اس پر ‘غداری’ کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ ایسا رویہ کسی ہندو کا نہیں ہو سکتا۔

پولیس اہلکار کے اس متعصبانہ بیان پر ٹرک ڈرائیور شیام لال راؤ نے شدید صدمے اور حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی مذہبی اور علاقائی شناخت واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ راجستھان کے جاٹ ہیں، اور سوال اٹھایا کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے معاملے میں مذہب کو کیوں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ڈرائیور نے موقع پر موجود افسران کو یاد دلایا کہ سرکاری ملازم ہونے کے ناطے ان کا فرض ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور غیر جانبدارانہ سلوک کریں اور عقیدے کی بنیاد پر اپنا رویہ طے نہ کریں۔

اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف برادریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے پولیس اہلکار کے طرز عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ملازم کی جانب سے مخصوص مذہبی گروہ کو نشانہ بنانا یا ‘غداری’ جیسے الفاظ کا استعمال کرنا انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور معاشرے میں فرقہ وارانہ منافرت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔

واقعے کے بڑھتے ہوئے تناؤ کو دیکھتے ہوئے بعد میں ایک سینئر پولیس افسر نے مداخلت کی، ڈرائیور کی شکایت سنی اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ متاثرہ ڈرائیور نے متعلقہ ٹریفک کانسٹیبل سے تحریری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پورے تنازعے نے سرکاری ایجنسیوں کے اندر اقلیتوں اور مخصوص طبقات کے خلاف پائے جانے والے تعصبات اور جوابدہی کے فقدان پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاحال پولیس محکمے کی جانب سے متعلقہ اہلکار کے خلاف کسی حتمی تادیبی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر صارفین ملوث اہلکار کو معطل کرنے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔

شیئر کریں۔