مدھیہ پردیش: ہجومی تشدد کے مجرموں کو عمر قید کی سزا سنانے والی مسلم خاتون جج کو قتل اور ملک بھر میں خونریزی کی دھمکیاں

مدھیہ پردیش کے نرمداپورم ضلع سے قانون کی حکمرانی اور عدالتی آزادی کو چیلنج کرنے والا ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک مسلم ٹرک ڈرائیور کے ہجومی تشدد اور قتل کے جڑواں مقدمے میں ملوث 14 مبینہ گئو رکشکوں کو عمر قید کی سزا سنانے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو انتہا پسند ہندوتوا گروپوں کی جانب سے شدید فرقہ وارانہ گالیوں، آن لائن ہراسانی اور جان سے مارنے کی منظم دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انتہا پسند عناصر نے عدالتی فیصلے کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے خاتون جج کی مسلم شناخت کو نشانہ بنایا ہے اور مجرموں کو دس دنوں کے اندر رہا نہ کرنے کی صورت میں پورے ملک اور ریاست میں بڑے پیمانے پر خوں ریزی کرنے کی کھلی دھمکی دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ پورا معاملہ اگست 2022 کا ہے، جب نذیر احمد نامی ایک مسلم ٹرک ڈرائیور مدھیہ پردیش سے مہاراشٹر مویشی لے جا رہے تھے۔ دو اور تین اگست کی درمیانی رات سیونی مالوا کے بارکھر گاؤں کے قریب ایک مسلح اور پرتشدد ہجوم نے ان کا راستہ روکا اور نذیر احمد پر جان لیوا حملہ کر دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے رواں ماہ بائیس جون کو اس کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حملے کو ‘انتہائی سفاکانہ’ قرار دیا تھا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا تھا کہ تمام ملزمان نے ایک مشترکہ مجرمانہ مقصد کے تحت غیر قانونی اجتماع تشکیل دیا تھا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایک معصوم کی جان لی، جس کی پاداش میں تمام 14 ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

عدالتی فیصلہ سامنے آتے ہی سزا یافتہ افراد کے اہل خانہ اور مختلف دائیں بازو کی تنظیموں نے عدالت کے باہر اور شہر کے مختلف حصوں میں ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ بعض مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے سامنے لیٹ کر مجرموں کو جیل لے جانے سے روکنے کی کوشش کی، جسے پولیس نے بمشکل قابو کیا۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور زمین پر ایک منظم نفرت انگیز مہم کا آغاز کر دیا گیا جس میں جج تبسم خان کے پُتلے جلائے گئے اور انہیں ‘ہندو مخالف’ قرار دیا گیا۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک ہندوتوا لیڈر کو خاتون جج کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور غلیظ فرقہ وارانہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو ملک کے عدالتی نظام پر براہ راست حملہ ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانون دانوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارتی عدلیہ اور آئین پر ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ مسلم کمیونٹی اور انصاف پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بھی اقلیتوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا قانون کے رکھوالے اپنا فرض نبھاتے ہیں، تو ان کی مذہبی شناخت کو ڈھال بنا کر قانون کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ماب لنچنگ جیسے بھیانک جرائم کے مجرموں کی پشت پناہی اور ایک معزز جج کو سرعام دھمکیاں دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق اس وحشیانہ دھمکی اور مہم کے بعد جج تبسم خان کی سیکیورٹی اور تحفظ کے حوالے سے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ جج کو گالیاں دینے، پتلا جلانے اور ملک میں خونریزی کی دھمکی دینے والے شرپسندوں کے خلاف فوری طور پر غداری اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ تاحال مدھیہ پردیش حکومت یا اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے جج کی سیکیورٹی میں اضافے یا دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لیکن اس واقعے نے عدالتی افسران کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

شیئر کریں۔