تیلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے آرمور علاقے میں واقع ایک نجی اسکول کے پرنسپل پر بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنان کی جانب سے مبینہ حملے اور بدسلوکی کے بعد پورے علاقے میں شدید سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس واقعے کے خلاف سماجی، عوامی اور اقلیتی تنظیموں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز ضلع گیر بند کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اسکول کے احاطے میں گھس کر غنڈہ گردی کرنے والے عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ پورا تنازعہ آرمور کے ‘بھارت چندر اسکول’ میں اس وقت شروع ہوا جب مغلئیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والے اس ادارے میں غیر مسلم طلبہ کو اردو زبان پڑھانے کی مخالفت کی گئی۔ اسکول کے پرنسپل عامر خان نے میڈیا کو بتایا کہ ہفتے کے روز بی جے پی کارکنوں کا ایک گروپ زبردستی اسکول کے اندر داخل ہوا اور غیر مسلم طلبہ کو اردو سکھانے پر ان کے ساتھ سخت بدتمیزی کی اور بعد میں ان پر مبینہ طور پر حملہ بھی کیا گیا۔ پرنسپل عامر خان نے واضح کیا کہ اسکول انتظامیہ نے بچوں کے والدین کی بارہا درخواستوں اور اصرار کے بعد ہی اسکول میں اردو زبان کی تدریس کا آغاز کیا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ ایک استاد کا تقرر بھی کیا گیا تھا۔
پرنسپل کے مطابق انتظامیہ نے اردو کلاسز کے لیے ایک الگ بلاک مختص کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن نئے مقرر کردہ استاد نے ناتجربہ کاری کی وجہ سے مشترکہ کلاس لے لی، جسے دائیں بازو کے عناصر نے جان بوجھ کر ایک بڑا تنازعہ بنا دیا۔ عامر خان نے مقامی پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی شکایت درج کرانے کے دوران مقامی تھانے میں ان کے اور ایک دوسرے استاد کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا، جہاں انہیں گھنٹوں فرش پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا اور حملہ آوروں کے خلاف فوری طور پر کوئی ٹھوس قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب بی جے پی، بجرنگ دل، اے بی وی پی اور آر ایس ایس سمیت دائیں بازو کے مقامی رہنماؤں نے پرنسپل کے ان دعوؤں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ بی جے پی کے مقامی رہنما نوتلا سرینواس اور دیگر کارکنان کا کہنا ہے کہ اسکول میں ہندو طلبہ کو مبینہ طور پر زبردستی نماز پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، جس سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ بعض والدین نے بھی اسکول کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت کے کسی باقاعدہ حکم نامے کے بغیر اردو کی تعلیم کو لازمی کیوں بنایا گیا، اور الزام لگایا کہ جب سے موجودہ پرنسپل نے چارج سنبھالا ہے، اسکول کے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد مجلس بچاؤ تحریک (MBT) کے رہنما امجد اللہ خان سمیت کئی دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اسکول کے اندر پرنسپل پر حملے اور پولیس کے متعصبانہ رویے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک زبان سیکھنے سکھانے کو مذہبی رنگ دے کر تعلیمی ادارے میں تشدد کرنا انتہائی تشویشناک ہے اور اس سے علاقے کا امن و امان داؤ پر لگ گیا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے فی الحال علاقے میں امن برقرار رکھنے اور دونوں برادریوں کے مابین پیدا ہونے والی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں، تاہم پیر کے مجوزہ بند کے پیش نظر نظام آباد میں سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔




