SIR پر اسدالدین اویسی کے شدید تحفظات، الیکشن کمیشن سے دستاویزی شرائط نرم کرنے کا مطالبہ

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے تلنگانہ میں شروع ہونے والے اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی کے موجودہ طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حیدرآباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ دستاویزات سے متعلق سخت اور غیر عملی شرائط کو فوری طور پر نرم کرے تاکہ ملک کا کوئی بھی غریب، پسماندہ اور اہل ووٹر اپنے بنیادی آئینی حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق موجودہ گائیڈ لائنز عام شہریوں بالخصوص اقلیتی طبقے کے لیے شدید انتظامی مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔

اسدالدین اویسی نے دستاویزی نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ان ووٹروں سے بارہ مختلف دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے جن کے یا ان کے آباء و اجداد کے نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن کی اس فہرست میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ اور فیملی رجسٹر جیسے دستاویزات شامل ہیں، حالانکہ تلنگانہ میں کبھی این آر سی نافذ ہوا ہی نہیں اور نہ ہی یہ اسناد یہاں جاری کی جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو دستاویزات ریاست میں عملاً دستیاب ہی نہیں، ان کا مطالبہ کرکے شہریوں کو کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، بیشتر سرکاری خدمات میں استعمال ہونے والے آدھار کارڈ کو واحد دستاویز کے طور پر قبول کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، اور پین کارڈ کو شامل کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

مجلس کے سربراہ نے 2002 کی ووٹر لسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فہرست مکمل طور پر دستی طور پر تیار کی گئی تھی، جس میں ناموں اور ہجوں کی بے شمار تکنیکی غلطیاں موجود ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر اس دور میں الیکشن کمیشن کے عملے سے خامیاں ہوئیں تو اس کی سزا آج کے ووٹروں کو دینا کسی بھی طرح سے انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ اویسی نے کمیشن کی بعض دیگر شقوں کو بھی غیر منطقی قرار دیا، جن میں بچوں کی تعداد یا والدین اور بچوں کے درمیان عمر کے روایتی فرق کو "غیر معمولی تضاد” یا مشکوک قرار دے کر فارم روکنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے زمینی اور خاندانی حقائق کو بے جا طور پر ایناملی قرار دینا شہریوں کی شناخت کو مشکوک بنانے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔

حقوقِ لسانی اور اقلیتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے نشاندہی کی کہ حیدرآباد میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب سے مردم شماری اور تصدیقی فارم صرف انگریزی اور تلگو زبانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ شہر کے لاکھوں اردو بولنے والے شہری، جو انگریزی یا تلگو سے مکمل واقف نہیں ہیں، ان پیچیدہ فارموں کو بھرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوامی سہولت کے لیے انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی ہے جس کی مدد سے شہری 2002 اور موجودہ فہرستوں میں اپنا نام آسانی سے چیک کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ تلنگانہ میں ایس آئی آر 2026 کے تحت گھر گھر مردم شماری اور ووٹر تصدیق کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس کی ابتدائی فہرست 31 جولائی کو جاری کی جائے گی جبکہ حتمی انتخابی فہرست یکم اکتوبر 2026 کو شائع ہوگی۔ اسدالدین اویسی نے خبردار کیا کہ مانسون کے موسم، محدود وقت اور لاکھوں شہریوں کی جانچ کے باعث یہ پورا عمل نہایت حساس مرحلے میں ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو یکطرفہ ضوابط کے بجائے شفافیت اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ جمہوری عمل پر کوئی حرف نہ آئے۔

شیئر کریں۔