ایک منفرد ثقافتی پیش کش
شکیب شاہ بندری ندوی
کسی ادارے کی اصل زندگی اس کی عمارتوں یا نصابی سرگرمیوں سے نہیں پہچانی جاتی، بلکہ ان مواقع سے ہوتی ہے جب اس کے طلبہ اپنی علمی و فکری اور ادبی و تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں بروز بدھ 8 محرم الحرام 1448ھ مطابق 24 جون 2026ء طلبہ کی تنظیم اللجنۃ العربیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا ثقافتی پروگرام اسی حقیقت کا ایک روشن مظہر تھا۔ یہ محض ایک پروگرام نہیں تھا بلکہ جامعہ کی علمی، ادبی اور تہذیبی روح کا ایک خوبصورت اظہار تھا، جس میں ماضی کی تاریخ، ادب کی لطافت، تحقیق کی سنجیدگی اور نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتیں ایک جگہ جمع ہو گئی تھیں۔
استادِ جامعہ برادرِ مکرم مولوی مفاز شریف ندوی کی خصوصی دعوت اور پُرخلوص اصرار پر اس میں شرکت کا موقع ملا۔ پروگرام کے اختتام پر دل نے بے اختیار اعتراف کیا کہ اگر اس محفل میں حاضر نہ ہوتا تو یقیناً ایک حسین تجربے، ایک علمی لذت اور ایک روح پرور مشاہدے سے محروم رہ جاتا۔
جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں مختلف النوع پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ اہم ہوتا ہے۔ لیکن بعض پروگرام ایسے ہوتے ہیں جو اپنے موضوع، حسنِ ترتیب، فکری گہرائی کے باعث ایک الگ شناخت قائم کر لیتے ہیں۔ یہ پروگرام بھی بلا شبہ انہیں میں سے ایک تھا۔ در حقیقت اس کی کیفیت کو وہی شخص پوری طرح محسوس کر سکتا ہے جس نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، کہ:
شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔
ماہِ محرم الحرام کی مناسبت سے اس پروگرام کا مرکزی عنوان "شہادتِ حسینؓ” اور اردو ادب کی شہرۂ آفاق صنف "مرثیہ نگاری” تھا۔ یہ انتخاب اپنے اندر گہری معنویت رکھتا ہے، اس لیے کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں بلکہ حق و باطل کی کشمکش کا ایک ابدی استعارہ ہے۔ جبکہ مرثیہ اردو ادب کا وہ پُرشکوه پیرایۂ اظہار ہے جس نے اس عظیم واقعے کے جذباتی، اخلاقی اور آفاقی پہلوؤں کو فصاحت و بلاغت کا ابدی لباس پہنایا ہے۔
پروگرام کا آغاز ایک تمثیلی علمی مذاکرے سے ہوا، جو اپنی ترتیب، موضوع اور سحر انگیز پیش کش کے لحاظ سے یادگار تھا۔
عزیزم علی ڈی ایف نے معروف نقاد و دانشور آصف فرخی کا روپ دھار کر نظامت کے فرائض نہایت سلیقے سے انجام دیے۔ جنادہ رکن الدین نے علامہ ضمیر اختر نقوی کی خطیبانہ جھلک دکھائی، زیاد کھروری نے ڈاکٹر رؤوف پاریکھ کے پُر مغز انداز کو اپنایا، عبد الرحمن صدیقہ نے بزمِ نقد کے بے تاج بادشاہ شمس الرحمٰن فاروقی کی یاد تازہ کی، جبکہ نجم الثاقب بیہاٹی نے پروفیسر جگن ناتھ آزاد کی علمی وجاہت کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔
قابلِ داد بات یہ تھی کہ طلبہ نے اپنے کرداروں کے علمی مزاج، اندازِ گفتگو اور فکری پس منظر کو بھی بڑی حد تک جذب کرلیا تھا۔ بعض لمحوں میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ نوجوان طلبہ نہیں بلکہ وہی نامور اہلِ قلم زمانے کی گرد جھاڑ کر اسٹیج پر آ بیٹھے ہوں۔ اس کے پس منظر میں اسکرپٹ نگار مولوی مفاز شریف ندوی کی محنت، فنی بصیرت اور ان کے تخیل کی پرواز نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس حصے میں مرثیہ نگاری کی تاریخ، اس کے ارتقائی سفر خصوصاً لکھنؤ میں اس کے عروج پر مدلل انداز میں گفتگو کی گئی۔ میر انیس اور مرزا دبیر کے تذکرے کے ساتھ علامہ شبلی کی شاہکار تصنیف "موازنۂ انیس و دبیر” کے فنی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
پروگرام کی ایک اور درخشاں کڑی شہادتِ حسینؓ کے موضوع پر تیار کردہ تحقیقی دستاویزی فلم تھی۔ برادرِ مکرم مولوی صہیب کولا ندوی نے تاریخی روایات کی چھان پھٹک، مآخذ کی تحقیق اور واقعات کی تنقیح کے بعد اسے مرتب کیا تھا۔ ہشتم کے طلبہ محمد عریج اور ان کے ساتھیوں نے اس کی تیاری میں جان توڑ محنت کی۔ محسوس ہوتا تھا کہ تاریخ کے گرد آلود اوراق یکایک زندگی پا کر پردۂ اسکرین پر متحرک ہو گئے ہیں اور ناظرین خود اس قافلۂ حق کے ہم سفر بن گئے ہیں۔
محفل کا نقطۂ عروج اس وقت آیا جب عزیزانِ گرامی عبد الہادی ایس ایم اور رائد قاضی اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور میر انیس کے ایک طویل مرثیے کی خواندگی پیش کی۔ یہ محض مرثیہ خوانی نہ تھی بلکہ الفاظ کی مصوری، جذبات کی ترجمانی اور احساسات کی مجسم تفسیر تھی۔
تقریباً پچاس بند پر مشتمل طویل مرثیہ اس روانی، اعتماد اور فنی مہارت کے ساتھ ازبر سنانا بذاتِ خود ایک قابلِ رشک کارنامہ تھا۔ کبھی آواز کا اتار چڑھاؤ سامعین کے دلوں کے تار چھیڑ دیتا، کبھی چہرے کے تاثرات اشعار کے مفہوم کو مجسم کر دیتے اور کبھی ہاتھوں کے اشارے معانی کے ترجمان بن جاتے۔ حاضرین ہمہ تن گوش تھے اور فضا پر ایک عجیب وجد انگیز کیفیت طاری تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے پروگرام کسی ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کا ضمیمہ نہیں بلکہ اس کی روح کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہی محفلیں نوجوان ذہنوں میں پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں، اور اعتماد کی وہ شمع روشن کرتی ہیں جس کی روشنی میں مستقبل کے قائدین، مقررین، ادیب اور محققین اپنا راستہ متعین کرتے ہیں۔
میری رائے میں اس پروگرام کی ایک عوامی پیش کش شہر بھٹکل کے کسی مناسب ہال میں بھی ہونی چاہیے تاکہ اہلِ شہر اس علمی و ادبی کاوش کو قریب سے دیکھ سکیں اور انہیں اندازہ ہو کہ جامعہ اسلامیہ اپنے طلبہ کی علمی تربیت کے ساتھ ساتھ فکری، ادبی اور ثقافتی ہر جہت سے کوششیں کر رہا ہے۔
آخر میں ان تمام طلبہ، اساتذہ اور منتظمین کو دلی مبارک باد پیش کرنا اپنا اخلاقی فرض محسوس کرتا ہوں جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حوصلہ افزائی کے چند مخلصانہ کلمات بسا اوقات تھکے ہوئے قدموں میں نئی توانائی، بجھتے ہوئے جذبوں میں نئی حرارت پیدا کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام طلبہ، اساتذہ اور ذمہ داران کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان سے مزید کام لے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا یہ شجرِ طیبہ اسی طرح پھلتا پھولتا رہے، اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے والی نسلیں فیض یاب ہوتی رہیں۔ آمین




