غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملہ، گاڑی کو نشانہ بنا کر خاتون سمیت دو فلسطینی شہید،

فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی اور طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے خونی کارروائیوں اور جارحیت کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ پیر کے روز غزہ شہر کے وسطی علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک سویلین گاڑی کو نشانہ بنا کر وحشیانہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو معصوم فلسطینی شہری موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ متعدد افراد شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں اور عارضی امن کے معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کی جانے والی یہ کارروائی خطے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی عکاسی کرتی ہے۔

مقامی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے غزہ شہر کی مصروف ترین سڑک شارع احمد عبدالعزیز پر رواں دواں ایک ٹوسان گاڑی کو باقاعدہ نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کار پر کم از کم تین میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار مرد اور خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس اچانک اور ہولناک حملے کے باعث آس پاس موجود دیگر گاڑیوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور قریبی راہگیروں کی ایک بڑی تعداد ملبے اور دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوئی ہے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اس فضائی حملے کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی کے دیگر مشرقی اور جنوبی حصوں میں بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ زمینی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے غزہ کے مشرقی سرحدی علاقوں کی طرف خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی ہے اور کئی مقامات پر توپ خانے سے گولے برسائے گئے ہیں۔ پیر کی صبح شہر کے جنوب مشرقی حصے میں واقع تاریخی زیتون محلے کے مشرقی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے نچی پروازیں کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی توپ خانے کی گولہ باری نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔

فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دس اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اب تک قابض فورسز کی ان پے در پے خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 28 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تین ہزار 249 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران مختلف تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 784 شہداء کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ اگر سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی مجموعی اسرائیلی جارحیت کا جائزہ لیا جائے تو اب تک کل شہداء کی تعداد 73 ہزار 38 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 357 کے ہولناک ہندسے کو چھو رہی ہے۔

بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں مسلسل جاری ان خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے محاصرے کا تسلسل، امدادی راہداریوں پر عائد سخت پابندیاں اور رہائشی علاقوں پر مسلسل بمباری نے غزہ کے لاکھوں شہریوں کو فاقہ کشی اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں فوری عالمی مداخلت اور جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کروانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں۔