ٹیلی گرام پر لگی پابندی ختم،حکومت کی سخت ہدایات کے ساتھ میسجنگ ایپ کی سروسز دوبارہ فعال

انسٹنٹ میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام منگل کی صبح ہندوستان میں موجودہ صارفین کے لیے دوبارہ فعال ہونا شروع ہو گیا ہے جبکہ گوگل نے بھی سرکاری پابندی کی طے شدہ مدت ختم ہونے کے بعد اس ایپ کو اپنے پلے اسٹور پر بحال کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ پابندی بائیس جون کی رات بارہ بجے ختم ہو گئی تھی جس کے بعد تکنیکی طور پر ایپ کی واپسی کا عمل شروع ہوا۔ یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر باضابطہ واپسی سے پہلے ہی کچھ صارفین کے لیے قابلِ رسائی ہو چکی تھی، تاہم صبح تقریباً دس بجے تک ایپل کے ایپ اسٹور پر ٹیلی گرام دستیاب نہیں تھا۔ اس سلسلے میں ایپل کے حکام سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے فوری طور پر کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ پابندی کے حکم نامے میں نہ تو کوئی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی اس کی مدت میں کوئی توسیع کی گئی ہے۔ حکومت نے یہ عارضی پابندی اس وجہ سے عائد کی تھی کہ ٹیلی گرام نیٹ (NEET) امتحان کے جعلی پرچوں کی گردش، گمراہ کن معلومات کی ترسیل اور دیگر دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہا تھا، جس سے ملک کے لاکھوں ہونہار طلبا کا امتحانی عمل اور مستقبل شدید متاثر ہوا۔ اس پابندی سے قبل تین جون کو حکومتی حکام نے ٹیلی گرام کے نمائندوں سے ایک اہم ملاقات کی تھی اور ان کے سامنے سیکورٹی خدشات رکھے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے ٹیلی گرام، اس کے تمام ویب لنکس اور ویب ورژن کو بائیس جون تک بلاک کرنے کا سخت فیصلہ کیا تھا۔ اس بحالی کے ساتھ ہی حکومت نے ٹیلی گرام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ اپنے پیغام میں ترمیم یعنی میسج ایڈیٹنگ کے فیچر کو تیس جون تک لازمی طور پر معطل رکھے تاکہ پرانے پیغامات بدل کر دھوکہ دہی نہ کی جا سکے۔ اکیس جون کو نیٹ کا دوبارہ امتحان پرامن طریقے سے منعقد کیا گیا اور اب تک کسی نئی جعل سازی کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے پابندی کے خاتمے کا کوئی علحدہ باضابطہ اشتہار یا پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی، تاہم معلوماتی دستاویزات کے مطابق پابندی صرف بائیس جون تک ہی نافذ تھی جو اب ازخود ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود مختلف ڈیجیٹل ذرائع اور ٹیلی کام آپریٹرز کے نیٹ ورک پر متضاد صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تئیس جون کو دوپہر بارہ بجے کی صورتحال کے مطابق ٹیلی گرام ایپل ایپ اسٹور پر نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ گوگل پلے اسٹور پر بھی بعض صارفین صرف اپنی موجودہ ایپ کو اپ ڈیٹ کرنے کے اہل تھے اور نئے ڈاؤن لوڈ کی سہولت ہر صارف کے لیے مکمل طور پر دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام سرورز پر ایپ کی مکمل بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

اس پورے معاملے کا سب سے زیادہ اثر ملک کے تعلیمی نظام اور غریب و متوسط طبقے کے ان طلبا پر پڑا ہے جو مہنگی کوچنگ کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں اور اپنی مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منحصار ہیں۔ امتحانی تیاری کرنے والی بہار کی پچیس سالہ طالبہ میگھنا مشرا نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اچانک پابندی کا سب سے بڑا نقصان غریب طلبا کو اٹھانا پڑا ہے، کیونکہ لاکھوں امیدوار مفت مطالعاتی مواد، پی ڈی ایف نوٹس اور موک ٹیسٹ کے لیے ٹیلی گرام چینلز پر انحصار کرتے ہیں۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے ایک ایک ہفتہ انتہائی قیمتی ہوتا ہے اور ایسے میں بغیر متبادل کے سروس بند کرنا درست نہیں تھا۔

اسی طرح دہلی کے تعلیمی مرکز کرول باغ سے تعلق رکھنے والے یو پی ایس سی امیدوار انکت سرکار نے ڈیجیٹل سیکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی بخوبی واقف ہے کہ ایسی عارضی پابندیوں سے بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ موجودہ دور میں وی پی این (VPN) ایپس اور متبادل راستے آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر طلبا اپنی مجبوری اور مطالعے کے لیے وی پی این کا استعمال کر سکتے ہیں تو ڈیٹا ہیک کرنے والے اور جرائم پیشہ عناصر بھی ان کا استعمال کر کے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پابندی لگانے کے بجائے ایسے پلیٹ فارمز پر نگرانی کا ایک مضبوط اور فول پروف دستوری نظام وضع کیا جائے تاکہ عام صارفین اور طلبا کا نقصان نہ ہو۔

شیئر کریں۔