ملک میں نیٹ (NEET) امتحانات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک معاملے پر طلبہ اور نوجوانوں کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جاری دھرنا چوتھے دن میں داخل ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے منگل کے روز اپنی مہم کو تیز کرتے ہوئے ایک انوکھی ‘ڈائپر ڈونیشن مہم’ کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں اس مہم کو "ڈائپر اے ڈے کیپس لیکس اوے” کا عنوان دیا گیا ہے، جس کا مقصد پیپر لیک کے بار بار ہونے والے واقعات پر وزارت تعلیم اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔
جنتر منتر پر سنیچر سے شروع ہونے والے اس دھرنے میں اراکین اور حامیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک ڈائپر لائیں، اس پر وزیر تعلیم کے استعفے کا اپنا مطالبہ لکھیں اور اسے احتجاج گاہ میں جمع کرائیں۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ احتجاجی ڈائپر وزیر تعلیم تک پہنچائے جائیں۔ دھرنے کے چوتھے دن سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی دیر رات پولیس نے بیریکیڈز کو آگے بڑھانے اور ہٹانے کی کوشش کی تاکہ احتجاج گاہ کو سکیڑ کر ایک چھوٹے علاقے تک محدود کر دیا جائے اور طلبہ کی آواز کو دبایا جا سکے۔ حالانکہ اس الزام پر دہلی پولیس کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ملک کے مستقبل اور مسلم برادری سمیت تمام پسماندہ طبقات کے غریب و ہونہار بچوں کے تعلیمی حقوق سے جڑے اس سنگین معاملے پر احتجاجی مقام کا ماحول کافی جذباتی دیکھا جا رہا ہے۔ پیر کے روز کاروباری دن ہونے کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد جنتر منتر پر موجود رہی۔ اس دوران پیپر لیک تنازع کے بعد ذہنی تناؤ اور مایوسی کے باعث خودکشی کرنے والے معصوم طلبہ کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ ملک کا تعلیمی نظام مفلوج کرنے والے اور پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں ناکام رہنے والے حکام آخر معصوم طلبہ کو ذہنی اذیت کی سزا کیوں دے رہے ہیں؟ اس احتجاج کو بائیں بازو کی بڑی طلبہ تنظیموں جیسے ایس ایف آئی (SFI)، آئیسا (AISA) اور اے آئی ایس ایف (AISF) کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جنہوں نے احتجاجی مقام پر آنے والے طلبہ کے لیے ایک مفت لائبریری بھی قائم کی ہے۔
انٹرویو کے دوران تحریک کے مستقبل اور طویل مدتی منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے اعتراف کیا کہ یہ تحریک مکمل طور پر فوری حالات اور طلبہ کے جذبات کے تحت چلائی جا رہی ہے اور فوری مطالبے کے علاوہ اس کا کوئی طویل مدتی روڈ میپ تیار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی ایک وقت میں ایک ہی قدم اٹھا رہے ہیں، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عام انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے اس رفتار کو تین سال تک برقرار رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ نظامی تبدیلیاں صرف احتساب کے بعد ہی ممکن ہیں اور جب تک وہ شخص جو اپنا کام کرنے میں ناکام رہا اپنے عہدے پر برقرار رہے گا، ہم نظام کی بہتری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟
تحریک کے پھیکا پڑنے کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ وہ کسی وہم میں جینے والے انسان نہیں ہیں، آج اس تحریک کو میڈیا اور عوام کی توجہ مل رہی ہے تو ہو سکتا ہے کہ کل یہ خبروں میں نہ ہو۔ ملک کے نظام میں تبدیلیاں آنے میں سال اور دہائیاں لگ جاتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوشش کیے بغیر ہی ہار مان لی جائے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور وزیر تعلیم کے استعفے کا فیصلہ نہیں کرتی، دستوری حدود میں رہ کر یہ پرامن احتجاجی مہم جاری رہے گی۔




