بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل پولیس تھانے کے باہر احتجاج کے دوران سینئر پولیس افسران کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کرنے اور غیر قانونی طور پر ہجوم اکھٹا کرنے کے الزام میں ہندوتوا لیڈر گووند نائیک کے خلاف ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ بدھ کی رات اس وقت پیش آیا جب ساگر روڈ پر پیش آنے والے ایک مبینہ مورل پولیسنگ واقعے کے سلسلے میں بڑی تعداد میں مظاہرین تھانے کے باہر جمع ہوئے تھے۔ اس دوران گووند نائیک کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں وہ پولیس افسران کے ساتھ انتہائی جارحانہ اور دھمکی آمیز لہجے میں بحث کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔اس پورے تنازعہ کا آغاز بھٹکل کے ساگر روڈ پر پیش آنے والے ایک واقعے سے ہوا، جہاں شاہد خان نامی ایک مسلم نوجوان نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ تین افراد نے اس کا راستہ روک کر اس کے ساتھ مار پیٹ کی اور اسے نشانہ بنایا۔ تاہم اس واقعے کے بعد کار میں شاہد خان کے ساتھ سفر کرنے والی ایک ہندو لڑکی نے ایک علیحدہ شکایت درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ شاہد اسے اس کی مرضی کے خلاف گاڑی میں لے جا رہا تھا۔ لڑکی کی اس شکایت اور تھانے کے باہر ہندوتوا گروپوں کے شدید احتجاج کے بعد، پولیس نے مسلم نوجوان شاہد خان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجتے ہوئے کاروار کی ضلعی جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ‘تازہ اپڈیٹ’ کے مطابق، مسلم نوجوان شاہد خان پر حملہ کرنے اور اخلاقی پولیسنگ کرنے والے ملزمان کے خلاف کوئی گرفتاری عمل میں نہ آنے کی اطلاعات ہیں ، پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔




