کولکاتا میں 300؍ سے زائد مکانات کی مسماری کے منصوبے پر جماعت اسلامی ہند کا شدید اظہار تشویش، 15 ہزار شہریوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں تقریباً ۳۰۰؍ رہائشی مکانات کو گرانے کے مبینہ سرکاری منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور ملک کی متعدد ریاستوں میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں یکطرفہ انہدامی مہم، اقلیتی حقوق کی پامالی اور سیاسی قطبی بندی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے بلڈوزر کارروائیاں اب اقلیتی برادریوں میں مسلسل خوف اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

ملک معتصم خان نے مسماری کے اس منصوبے کے انسانی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکام کولکاتا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جن ۳۰۰؍ مکانات کو منہدم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، اس کے نتیجے میں تقریباً ۱۵۰۰۰؍ افراد براہِ راست متاثر ہو کر سڑک پر آ جائیں گے۔ ان متاثرین میں بڑی تعداد بزرگ شہریوں، خواتین، معصوم بچوں، شدید بیمار مریضوں اور زیر تعلیم طلبہ کی ہے جو اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بیشتر خاندان گزشتہ کئی دہائیوں اور برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور اب اچانک بے گھری کے خطرے نے ان کے پورے مستقبل کو غیر یقینی اور تاریکی میں دھکیل دیا ہے، جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

ملک بھر میں بڑھتے ہوئے بلڈوزر کلچر پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے رہنما نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کا اولین فرض شہریوں کی زندگیوں کو سنوارنا، انہیں تحفظ فراہم کرنا اور غریبوں کو چھت مہیا کرانا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے بنے بنائے آشیانوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنا۔ انہوں نے قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شہری نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی بھی ہے، تو اس کے خلاف مروجہ عدالتی اور قانونی عمل کے ذریعے کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی خاندان کو متبادل رہائش اور مناسب حل فراہم کیے بغیر جبراً بے گھر کرنا انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتوں کو ایسی تعمیری پالیسیاں بنانی چاہئیں جو طویل عرصے سے قائم کچی بستیوں اور رہائشی کالونیوں کو قانونی شناخت فراہم کریں، کیونکہ ریاست کے پاس بستیوں کو باقاعدہ بنانے کے لیے تمام انتظامی وسائل موجود ہوتے ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران جے آئی ایچ کے نائب صدر نے معاشی اور شہری حقوق کی صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں پر دانستہ طور پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور مہنگائی، کمر توڑ بے روزگاری اور معاشی بدحالی جیسے بنیادی عوامی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مسماری مہمات اور مذہبی تنازعات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ’ڈبل انجن حکومت‘ کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج اس کا مطلب انصاف کی فراہمی نہیں، بلکہ غریب عوام پر مصائب مسلط کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، اور یہ دعویٰ کرنا کہ شہریوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، زمینی حقیقت سے بالکل بعید ہے کیونکہ اب سرکاری کارروائیاں خود عوام کے لیے خوف کا باعث بن چکی ہیں۔ انہوں نے مذہبی آزادی کے قوانین پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین ہر فرد کو اپنے عقیدے کے انتخاب کی مکمل گواہی دیتا ہے، لہٰذا اس میں کسی بھی قسم کی سرکاری مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

مغربی بنگال کے موجودہ سیاسی منظرنامے اور حالیہ انتخابی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے الزام لگایا کہ ریاست میں سیاسی مخالفین کو دبانے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں مسماری کی لہر چلا کر عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے انتخابی فہرستوں میں ووٹر رجسٹریشن کے دوران مسلم شہریوں کو پیش آنے والی انتظامی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی اور انتخابی حکام سے عمل کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں اور قانونی ماہرین نے حال ہی میں مغربی بنگال کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے مقامی رہائشیوں اور تعلیمی و مذہبی اداروں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ اس بحران کا مناسب قانونی علاج دریافت کیا جا سکے۔ دوسری جانب، سرکاری حکام کا مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ مسماری کارروائیاں صرف غیر قانونی قبضے ہٹانے کے لیے قانون کے مطابق کی جاتی ہیں، تاہم ناقدین اور جے آئی ایچ کا ماننا ہے کہ ان کارروائیوں کا نشانہ غیر متناسب طور پر ایک خاص برادری کو بنایا جا رہا ہے جس پر عدالتی نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔

شیئر کریں۔