جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی حکمت عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک میں سیاسی پارٹیوں کو توڑ کر ’ون نیشن ون الیکشن‘ کے منصوبے کو زبردستی نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ موجودہ مودی حکومت انتظامی اور سیاسی ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے غیر جمہوری ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ آغا روح اللہ نے ان خیالات کا اظہار جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ ٹاؤن ہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
اونتی پورہ میں منعقدہ اس پبلک دربار کی صدارت خود ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے کی، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی اور سب ضلعی سطح کے اعلیٰ افسران کے علاوہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس عوامی رسائی پروگرام کے دوران مقامی شہریوں نے بجلی، پانی، سڑکوں کی خستہ حالی اور انتظامی سستی جیسے متعدد سنگین مسائل اور شکایات رکن پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیں۔ آغا روح اللہ نے عوامی وفود کے مطالبات کو انتہائی غور سے سنا اور موقع پر موجود افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وادی کے موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب کے دوران آغا روح اللہ نے جموں و کشمیر کی بیوروکریسی میں مقامی لوگوں کی عدم موجودگی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ خطے کے لوگوں کو اس وقت مختلف سطحوں پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج جموں و کشمیر میں تھانہ انچارج (ایس ایچ او) سے لے کر اعلیٰ ترین عہدوں تک دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو نئی دہلی نے یہاں کا اقتدار اور نظام سونپا ہے، وہ عوام کی تکالیف کو کم کرنے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ مرکز کے جابرانہ فیصلوں کے خلاف ہمیں اپنی لڑائی کو مکمل طور پر آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر جاری رکھنا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران نیشنل کانفرنس کے رہنما نے ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں نہ تو انتظامی سطح پر کوئی بہتری آئی ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر کوئی نمایاں یا مثبت تبدیلی نظر آئی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر سنگین ترامیم کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت مختلف ریاستوں میں علاقائی اور اپوزیشن جماعتوں کے اندر سیندھ لگا کر اور توڑ پھوڑ کر کے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے فراق میں ہے، تاکہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچا کر ’ون نیشن ون الیکشن‘ کے ایجنڈے کو نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے حالیہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے رہنماؤں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
آغا روح اللہ مہدی نے سابق کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کا نام لے کر ان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے یوسف پٹھان کو گجرات سے بلا کر عزت دی اور انہیں اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ بنوایا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر سیاسی وفاداری تبدیل کر کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکز میں بیٹھی حکومت کو جمہوریت کو پامال کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کیونکہ ملک کے عوام اب ان کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور جموں و کشمیر کے حقوق کی بحالی تک ان کی جمہوری جدوجہد کسی بھی قیمت پر نہیں رکے گی۔




