امریکی فوج کے حملے میں ہلاک ہندوستانی ملاح شیوانند کی لاش دیوریا پہنچی

خلیج عمان میں تجارتی بحری جہاز ’ایم ٹی سیٹے بیلو‘ پر امریکی فوج کے ہلاکت خیز حملے میں جان بحق ہونے والے ہندوستانی ملاح شیوانند چورسیا (38) کی لاش واقعے کے آٹھ دن بعد بدھ کی شام ان کے آبائی گاؤں پہنچ گئی۔ متوفی ملاح کا تعلق اتر پردیش کے ضلع دیوریا کے گاؤں سرولی سے تھا۔ شیوانند کی لاش جیسے ہی خصوصی پرواز کے ذریعے پہلے گورکھپور اور پھر وہاں سے ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی وطن لائی گئی، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور تعزیت کرنے والوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ اس ہولناک بین الاقوامی واقعے نے جہاں خطے میں معصوم شہریوں اور غیر ملکی ملازمین کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہیں مقامی سطح پر حکومت کے خلاف عوامی غصے کو بھی ہوا دی ہے۔

جذباتی اور کشیدہ ماحول کے درمیان سوگوار خاندان نے ابتدائی طور پر شیوانند کی لاش کو ایمبولینس سے باہر نکالنے اور وصول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ متاثرہ خاندان کا مطالبہ تھا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود ان سے بات کریں، اور حکومت کی جانب سے متوفی کے لیے فوری طور پر سرکاری امداد، روزگار اور شہید کے درجے کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ اہل خانہ کے اس احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد ضلع مجسٹریٹ مدھو سودن ہلگی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ انتظامیہ نے لواحقین کو یقین دلایا کہ ان کے تمام مطالبات کو تحریری شکل میں ریاستی اور مرکزی حکومت تک پہنچایا جائے گا، جس کے بعد خاندان نے لاش کو تحویل میں لینے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس گہرے سانحے پر ملک بھر کی سیاسی قیادت نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے متوفی شیوانند کی اہلیہ اور ان کے بھائی رام پرویش سے فون پر تفصیلی بات چیت کی۔ کانگریس کے سینئر رہنما نے سوگوار خاندان کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، اور اپوزیشن ان کے مطالبات کو ایوان اور حکومت کے سامنے پوری قوت کے ساتھ اٹھائے گی۔ انہوں نے مالی امداد کی فراہمی کے لیے حکومت کو خط لکھنے اور دباؤ برقرار رکھنے کا بھی صریح وعدہ کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں نے بھی سرولی گاؤں کا دورہ کر کے لواحقین سے ملاقات کی۔

ملازمت کے دوران سمندری حدود میں ہلاک ہونے والے ملاح کے والد رام جی چورسیا نے ضلع مجسٹریٹ کو ایک باضابطہ میمورنڈم سونپا ہے۔ اس یادداشت میں متاثرہ خاندان نے مرکزی اور اتر پردیش حکومتوں سے ایک ایک کروڑ روپے (مجموعی طور پر دو کروڑ روپے) کے معاوضے، شیوانند کی بیوہ کے لیے سرکاری نوکری، ان کے دو یتیم بچوں کے لیے بارہویں جماعت تک مفت تعلیم اور متوفی کو ‘شہید’ کا درجہ دینے کے مطالبات شامل کیے ہیں۔ سلیم پور پارلیمانی حلقے سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رما شنکر راجبھر نے متاثرہ خاندان کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفارتی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے معاملے کو پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں اٹھائیں گے اور ملاح کی آخری رسومات فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

مقامی حکام کے مطابق، لواحقین کی رضامندی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جمعرات کی صبح لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس کے بعد آخری رسومات مروجہ مذہبی طریقے سے ادا کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ خلیج عمان میں تجارتی جہاز پر امریکی فوج کے اس اچانک حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے تھے، جس پر بین الاقوامی برادری بالخصوص ایران نے بھی گہرے رنج و ملال اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں پر اس طرح کے حملے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے منافی ہیں، اور نئی دہلی کو واشنگٹن کے سامنے اپنے شہریوں کے تحفظ کا معاملہ سختی سے اٹھانا ہوگا۔

شیئر کریں۔