سپریم کورٹ نے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے دو ہندوستانی زبانوں سمیت کل تین زبانیں پڑھانے کی سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی نئی پالیسی پر فوری روک لگانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت کی ویکیشن بنچ نے اس معاملے میں دائر نئی درخواست پر فوری مداخلت کرنے سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس تنازع پر کوئی بھی حتمی یا عبوری حکم تفصیلی سماعت کے بعد ہی جاری کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس کیس سے جڑی تمام عرضیوں کو اگلی سماعت کے لیے 14 جولائی کو مقرر کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ’فرینڈز آف پیپل فار ایکٹو ڈیموکریسی‘ نامی تنظیم کی طرف سے دائر تازہ ترین درخواست کو بھی پہلے سے زیر سماعت دیگر عرضیوں کے ساتھ نتھی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ 27 مئی کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سی بی ایس ای اور نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس نئی پالیسی پر تفصیلی جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریا بھاٹی کو بھی حکم دیا تھا کہ وہ اس نئی تعلیمی پالیسی کو زمین پر نافذ کرنے کے لیے کی جانے والی ترامیم، تیاریوں اور انفراسٹرکچر سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کریں۔
درخواست گزاروں، جن میں دہلی، گروگرام، نوئیڈا اور چنئی کے 19 اساتذہ اور والدین شامل ہیں، کا مؤقف ہے کہ سی بی ایس ای نے اپنے متضاد فیصلوں سے طلبہ اور اسکول انتظامیہ کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ عرضی کے مطابق، بورڈ نے رواں سال 9 اپریل کو باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ یہ سہ لسانی پالیسی تعلیمی سیشن 2029-30 تک نافذ نہیں کی جائے گی، لیکن محض ایک ماہ بعد ہی 15 مئی کو اچانک اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کر دیا گیا، جس کے تحت اسے یکم جولائی 2026 سے ہی نافذ کرنے کی تیاری کر لی گئی۔ اس اچانک تبدیلی پر کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اس تعلیمی فیصلے پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اساتذہ اور والدین کے مطابق، پہلے سے جاری پڑھائی اور تعلیمی سیشن کے عین درمیان میں ایک تیسری نئی زبان کو زبردستی سیکھنے کے لیے طلبہ پر بوجھ ڈالنا ان کی ذہنی صلاحیتوں اور تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرے گا۔ اسکولوں کا کہنا ہے کہ ملک کے متعدد تعلیمی اداروں میں اس وقت نہ تو نئی زبانوں کا نصاب اور کتابیں دستیاب ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عدالت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے سیشن میں اس پالیسی کے نفاذ پر عبوری روک لگانے کی استدعا کو فی الحال نامظور کر دیا ہے، اور اب تمام فریقین کی نظریں 14 جولائی کو ہونے والی تفصیلی سماعت پر لگی ہوئی ہیں، جہاں اس تعلیمی اصلاحات کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔




