بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی ریاستی حکومتوں کی جانب سے ملک بھر میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی کوششوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اتراکھنڈ اور آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش حکومت نے بھی ریاست میں یو سی سی بل نافذ کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کا اشارہ دے دیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستی حکومت جاریہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی یکساں سول کوڈ بل کو ایوان میں پیش کرنے اور اسے پاس کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے مدھیہ پردیش اسمبلی آمد کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ کیلاش ناتھ کاٹجو کے یوم پیدائش پر ان کی تصویر پر گلدستہ عقیدت پیش کیا۔ اس تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مذہبی الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ اگر بابا مہاکال کی کرپا رہی تو اسی موجودہ اسمبلی اجلاس میں یکساں سول کوڈ بل کو منظوری مل جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور قانونی ماہرین اس بل کے مسودے اور اقلیتوں پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ملک میں یکساں سول کوڈ کا معاملہ طویل عرصے سے بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور مختلف اقلیتی و قبائلی تنظیمیں مسلسل اس کی مخالفت کرتی آئی ہیں، کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ان کے مذہبی حقوق، عائلی قوانین اور ثقافتی شناخت پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں یو سی سی کے نفاذ اور آسام میں اس سمت میں پیش رفت کے بعد مدھیہ پردیش تیسری ایسی بڑی ریاست بننے جا رہی ہے جہاں بی جے پی اپنے اس دیرینہ ایجنڈے کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت اس بل کے ذریعے ریاست میں تمام شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے قوانین کو یکساں بنانا چاہتی ہے۔ تاہم، ریاست میں آباد بڑی مسلم آبادی اور قبائلی برادریوں کی جانب سے اس قانون کے مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس قوانین کو عجلت میں پاس کرنے کے بجائے تمام فریقین، بالخصوص اقلیتی نمائندوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ کسی کے بنیادی مذہبی حقوق متاثر نہ ہوں۔
اسمبلی کے موجودہ سیشن میں حکومت اس بل کے علاوہ نیٹ (NEET) امتحانات کے انتظامات اور دیگر انتظامی امور پر بھی بحث کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایوان کے اندر یو سی سی بل کی سخت مخالفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اس بل کا کیا مسودہ تیار کرتی ہے اور اس میں اقلیتوں اور قبائلیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات شامل کیے جاتے ہیں۔




