نیٹ ری-ایگزام کے پیشِ نظر 22 جون تک ٹیلی گرام پر پابندی

طبی شعبے کے سب سے بڑے داخلہ امتحان ‘نیٹ یو جی’ (NEET-UG) کو پیپر لیک مافیا اور فرڈ ریکیٹس سے محفوظ رکھنے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک غیر معمولی اور انتہائی سخت قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی سفارش پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت پورے ملک میں مقبول میسیجنگ ایپ ‘ٹیلی گرام’ پر 22 جون 2026 تک عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ کارروائی 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی کے دوبارہ امتحان (ری-ایگزام) کی شفافیت کو یقینی بنانے اور طلبہ کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے کی گئی ہے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق، حکومت نے صرف ایپ بلاک کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے حکم نامے کے ذریعے ٹیلی گرام کو پابند کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں 30 جون تک اپنے ‘میسیج ایڈٹ’ فیچر کو مکمل طور پر بند رکھے۔ این ٹی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ پیپر لیک کرنے والے مجرمانہ گروہ اس فیچر کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کر رہے تھے۔ یہ ریکیٹس پرانی تاریخوں کی پوسٹس میں فرضی سوالاتی پرچے ایڈٹ کر کے شامل کر دیتے تھے اور پھر طلبہ اور ان کے پریشان حال والدین کو یہ یقین دلا کر گمراہ کرتے تھے کہ ان کے پاس اصل پرچہ پہلے سے موجود تھا، جس کے عوض لاکھوں روپے بٹورے جا رہے تھے۔

اس سخت ترین ڈیجیٹل کارروائی کے پس منظر میں حالیہ دنوں میں ہونے والی گرفتاریاں اور انکشافات شامل ہیں۔ احمد آباد سٹی سائبر کرائم برانچ نے حال ہی میں ایک ایسے ہی بین ریاستی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو ٹیلی گرام پر آٹھ مختلف چینلز چلا رہا تھا۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اس گینگ نے فرضی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے صرف ایک مہینے میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی لین دین کی اور ایک ہزار سے زائد طلبہ اور والدین سے رابطہ کیا۔ بہار پولیس کے اکنامک آفنسز ونگ (EOU) اور وزارتِ داخلہ کے سائبر کرائم ونگ نے بھی ان چینلز کے خلاف سخت وارننگ جاری کی تھی، جس کے بعد اب ٹیلی گرام کے خلاف یہ بڑا آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

این ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ٹیلی گرام پر "پیپر لیکڈ نیٹ” اور "پرائیویٹ مافیا” جیسے ناموں سے چلنے والے چینلز سراسر فراڈ ہیں۔ ایجنسی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امتحان کے محفوظ نظام سے باہر کوئی بھی پرچہ دستیاب نہیں ہے اور جو لوگ ایسے دعوے کر رہے ہیں وہ صرف معصوم طلبہ کو لوٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف، ایجنسی نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس عارضی پابندی کی وجہ سے ان لاکھوں عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا جو قانونی اور کاروباری مقاصد کے لیے ٹیلی گرام کا استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے ایجنسی نے معذرت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اصرار کیا کہ امتحان کی سیکیورٹی کے پیشِ نظر یہ تلخ فیصلہ ناگزیر تھا۔

یاد رہے کہ رواں سال 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی کا امتحان پیپر لیک کے سنگین الزامات اور ہنگامے کے بعد 12 مئی کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب 22 لاکھ سے زائد امیدوار دوبارہ اس امتحان میں بیٹھ رہے ہیں۔ اس دوران این ٹی اے نے طلبہ کو تسلی دیتے ہوئے بتایا ہے کہ محض 24 گھنٹوں کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ طلبہ اپنے ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور تکنیکی ٹیمیں سرورز کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ کسی کو پریشانی نہ ہو۔ حکومت نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود کسی بھی غیر تصدیق شدہ مواد پر یقین نہ کریں اور کسی بھی دھوکہ دہی کی شکایت فوری طور پر نیشنل ہیلپ لائن نمبر 1930 پر درج کروائیں۔

شیئر کریں۔