ہندوستانی صرافہ بازار میں سونا اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے درمیان گراوٹ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جویلرس ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے دن منگل کو قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں 4400 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد چاندی اب گراوٹ کے ساتھ 2,47,067 روپے فی کلو گرام کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف سونے کے داموں میں بھی کمی کا رجحان ہے، تاہم مارکیٹ میں 999 خالص والے 24 قیراط سونے کی قیمت اب بھی 1 لاکھ 50 ہزار روپے فی 10 گرام سے اوپر برقرار ہے۔
آئی بی جے اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مختلف قیراط کے سونے کی قیمتوں میں بھی متناسب کمی آئی ہے۔ مارکیٹ میں 995 خالصیت والے یعنی 23 قیراط سونے کی قیمت 1,49,493 روپے فی 10 گرام درج کی گئی ہے، جبکہ زیورات کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے 916 خالصیت والے یعنی 22 قیراط سونے کے نرخ کم ہو کر 1,37,486 روپے فی 10 گرام پر آ گئے ہیں۔ کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ کمی عالمی مارکیٹ کے اثرات اور مقامی سطح پر مانگ میں تبدیلی کی وجہ سے دیکھنے کو مل رہی ہے، جس سے جہاں عام خریداروں کو راحت ملی ہے وہیں سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
انڈیا بلین اینڈ جویلرس ایسوسی ایشن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر جاری کی جانے والی یہ قیمتیں پورے ملک میں معیاری مانی جاتی ہیں اور صرافہ بازار اسی کے مطابق کاروبار کرتا ہے۔ یہ قیمتیں مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سرکاری تعطیلات کے علاوہ ہفتہ اور اتوار کو جاری نہیں کی جاتیں۔ عام صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آئی بی جے اے کی ویب سائٹ پر پیر سے جمعہ تک صبح اور شام کے وقت جاری ہونے والے ان نرخوں میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور زیورات کی تیاری کے اخراجات یعنی میکنگ چارجز شامل نہیں ہوتے۔ اس لیے جب کوئی گاہک دکان سے زیورات خریدتا ہے تو اسے ان ٹیکسوں اور چارجز کی وجہ سے حتمی قیمت تھوڑی زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے۔
صرافہ بازار کے تکنیکی اور کاروباری اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو فیوچر مارکیٹ میں ‘اوپن انٹریسٹ’ کے اندر شارٹ بلڈ اپ کا رجحان صاف طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔ مالیاتی اور کموڈٹی مارکیٹ کی زبان میں اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بڑے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید بڑی گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر مارکیٹ میں گراوٹ کے حق میں مسلسل نئے سودے (شارٹ پوزیشنز) بک کیے جا رہے ہیں، جس کا براہ راست دباؤ ہاopt مارکیٹ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق موجودہ گراوٹ کی وجہ سے بازار میں خریداروں کی آمد بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے زیورات کی خریداری کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ تاہم، عالمی اقتصادی منظرنامے، امریکی ڈالر کی پوزیشن اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے سبب مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ دسیات رپورٹوں کے مطابق اگر عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں مزید کمی آتی ہے تو گھریلو بازار میں قیمتیں مزید نیچے گر سکتی ہیں، جس پر کاروباری برادری کی گہری نظر لگی ہوئی ہے۔




