ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کے استعمال کی قانونی حدود اور مختلف سرکاری دستاویزات بالخصوص ووٹر آئی ڈی کارڈ کی تیاری میں اس کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس اہم ترین آئینی و قانونی معاملے کی اگلی سماعت کے لیے سات اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔
یہ اہم ترین عرضی معروف وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں انہوں نے عدالتی نظام کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ آدھار کو اس کے بنیادی مقصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ حکام اور محکموں کو یہ واضح ہدایت جاری کرے کہ آدھار کا استعمال صرف اور صرف ایک فرد کی شناخت کی تصدیق کے ثبوت کے طور پر کیا جائے، اور اسے کسی بھی صورت میں شہریت، مستقل رہائش، پتے یا تاریخ پیدائش کے قانونی ثبوت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ عرضی میں آدھار قانون 2016 کی دفعہ 9 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی رو سے آدھار نہ تو شہریت کی ضمانت دیتا ہے اور نہ ہی یہ رہائش کا ثبوت ہے، اور خود یو آئی ڈی اے آئی بھی متعدد مرتبہ اس کی وضاحت کر چکی ہے۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق قانونی دفعات اور سابقہ عدالتی فیصلوں کی موجودگی کے باوجود ملک کے انتظامی اور سرکاری نظام میں آدھار کارڈ کو عمر، رہائش اور شہریت کے ثبوت کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں اسکولوں میں بچوں کے داخلے، جائیداد کی خرید و فروخت اور رجسٹری، پیدائش کے سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا جیسے روزمرہ کے بنیادی اور حساس معاملات شامل ہیں۔ عرضی میں خاص طور پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے ‘فارم نمبر 6’ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں تاریخ پیدائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر آدھار کارڈ کو قبول کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ عمل آدھار قانون اور عوامی نمائندگی سے متعلق قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس معاملے کا ایک اور انتہائی حساس پہلو ملک کی سلامتی اور شہریوں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ عرضی میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آدھار اندراج کے موجودہ لچکدار نظام کے تحت کوئی بھی ایسا فرد جو کم از کم 182 دن سے ہندوستان میں مقیم ہو، وہ آدھار حاصل کرنے کا اہل ہو جاتا ہے، جس میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر بعض غیر قانونی تارکین وطن اس کمزور تصدیقی نظام کا فائدہ اٹھا کر پہلے آدھار کارڈ حاصل کر لیتے ہیں اور بعد میں اسی دستاویز کو بنیاد بنا کر دیگر اہم ترین دستاویزات جیسے راشن کارڈ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ڈومیسائل اور بالآخر ووٹر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جو کہ ملکی سلامتی اور حقیقی شہریوں کے جمہوری حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اب یہ معاملہ ایک بڑے قانونی اور سیاسی مباحثے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے آدھار کے استعمال کو صرف شناخت تک محدود رکھنے کا سخت حکم جاری کیا، تو الیکشن کمیشن سمیت تمام سرکاری محکموں کو اپنے فارمز اور تصدیقی طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات ملک کے انتخابی نظام کی شفافیت اور فرضی ووٹنگ کے سدباب پر پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف عام شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول کے لیے متبادل دستاویزات کی فراہمی کے حوالے سے نئے ضوابط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب تمام نظریں سات اگست کو ہونے والی اگلی سماعت پر ٹکی ہیں۔




