مغربی بنگال کی سیاست میں نیا موڑ!سوویندو ادھیکاری کی جیت کے خلاف ہائی کورٹ پہنچیں ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھوانی پور اسمبلی حلقے کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے خود عدالت پہنچ کر اس سلسلے میں ایک باضابطہ انتخابی عرضی داخل کی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ٹی ایم سی کے سینئر لیڈران ڈیریک اوبرائن، ڈولا سین اور کلیان بنرجی بھی موجود تھے۔ اپنی درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ نے بھوانی پور انتخاب سے متعلق تمام الیکٹرانک اور کاغذی ریکارڈ، گنتی کی دستاویزات اور دیگر ویڈیوز کو فوری طور پر محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی منصفانہ جانچ ہو سکے۔

اس ہائی پروفائل انتخابی مقابلے میں مغربی بنگال کے موجودہ وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو 15,105 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ حتمی اعداد و شمار کے مطابق سوویندو ادھیکاری کو 73,917 ووٹ حاصل ہوئے تھے جبکہ ممتا بنرجی کے حق میں 58,812 ووٹ آئے۔ اس انتخاب میں تیسرے نمبر پر سی پی ایم کے امیدوار شری جیب وشواس رہے، جنہیں محض 3,556 ووٹ مل سکے۔ گنتی کے دن ابتدائی 16 اور 17 راؤنڈز تک ممتا بنرجی مسلسل برتری برقرار رکھے ہوئے تھیں، لیکن آخری مراحل میں اچانک حالات تبدیل ہوئے اور سوویندو ادھیکاری نے فیصلہ کن برتری حاصل کر کے جیت درج کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست کی انتخابی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی اور انتہائی اہم موڑ ہے۔ یہ مسلسل دوسری بار ہے جب ممتا بنرجی نے سوویندو ادھیکاری کے ہاتھوں اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل 2021 کے مشہور نندی گرام اسمبلی انتخاب کے نتائج کے خلاف بھی ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی، جو طویل عرصے سے اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اب بھوانی پور کی اس نئی قانونی لڑائی نے ریاست کے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اس عدالتی اقدام کے دور رس سیاسی اور آئینی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ممتا بنرجی کی جانب سے بار بار انتخابی عمل اور گنتی کے طریقہ کار پر سوال اٹھانے سے جہاں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان تلخی مزید سنگین ہو جائے گی، وہی عوام میں انتخابی شفافیت کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ممتا بنرجی کے اس قدم کو شکست خوردہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا ہے، جبکہ ٹی ایم سی کا موقف ہے کہ جمہوریت میں ہر شہری اور لیڈر کو انصاف کے لیے عدالت جانے کا پورا حق حاصل ہے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس نئی درخواست پر جلد ہی ابتدائی سماعت کی تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت سب سے پہلے انتخابی ریکارڈ کو سیل کرنے اور محفوظ رکھنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ عدالت نندی گرام اور بھوانی پور کی ان دونوں اہم ترین عرضیوں پر کیا فیصلہ سناتی ہے اور اس کا اثر مغربی بنگال کی موجودہ حکومت کے استحکام پر کیا پڑے گا۔

شیئر کریں۔