کیا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی نے کی تھی وزیراعظم مودی سے خفیہ ملاقات ؟سنجے راؤت کا سنسنی خیز دعوی

مہاراشٹر اور ملک کی سیاست میں اس وقت ایک نیا سنسنی خیز موڑ دیکھنے کو ملا ہے جب شیو سینا (یو بی ٹی) کے فائر برانڈ رہنما اور راجیہ سبھا ممبر سنجے راؤت نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انتہائی چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔ سنجے راؤت کا الزام ہے کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” کے بانی ابھیجیت دیپکے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان پردے کے پیچھے کوئی خفیہ ساز باز چل رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے پر مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف سڑکوں پر اتر کر شدید احتجاج کرنے والی اس تنظیم کے رہنما نے امریکہ کے دورے کے دوران پی ایم مودی سے خفیہ طور پر ملاقات کی تھی، جس کی ایک تصویر بھی اب سامنے آ چکی ہے۔ اس انکشاف نے طلبہ تحریکوں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ پورا احتجاج محض ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق نیٹ پیپر لیک اسکینڈل کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتر منتر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس احتجاج کے بعد مہاراشٹر کے شہر پونے میں بھی ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا، جس میں تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے خود شرکت کی اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم سنجے راؤت کے حالیہ دعوے نے اس پورے احتجاج کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ راؤت کا کہنا ہے کہ جو تنظیم سڑکوں پر مودی حکومت کے خلاف لڑنے کا دکھاوا کر رہی ہے، اس کے تار اندرونی طور پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ سب بی جے پی کی طرف سے لکھی گئی ایک بڑی سیاسی اسکرپٹ کا حصہ ہو سکتا ہے۔

سنجے راؤت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کی اصل اپوزیشن جماعتیں مرکزی حکومت کو ہر محاذ پر چیلنج کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں کسی مصنوعی تحریک کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے لیے ملک گیر سطح پر تاریخی احتجاجی مظاہرے کیے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ گودی میڈیا نے اپوزیشن کی اس حقیقی عوامی تحریک کو وہ کوریج نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس مودی حکومت کی مبینہ شہ پر کھڑی کی گئی تنظیموں کو میڈیا میں اچھالا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے نے ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسی غصے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی کے جنتر منتر پر ملک بھر سے آئے متعدد نوجوانوں کو اکٹھا کر کے تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ اس تحریک کو اب تک ایک خودمختار طلبہ تحریک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، لیکن شیو سینا (یو بی ٹی) کے اس بڑے حملے کے بعد اب طلبہ تنظیموں کے اندر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ کہیں ان کے جذبات کا سیاسی استعمال تو نہیں کیا جا رہا۔

سنجے راؤت کے اس سنسنی خیز الزام کے بعد ابھی تک بھارتیہ جنتا پارٹی یا ابھیجیت دیپکے کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس خفیہ ملاقات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف لڑنے والے طلبہ کی تحریک کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا اور اس سے بی جے پی کی پوزیشن بھی دفاعی ہو سکتی ہے۔ مہاراشٹر میں آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی جنگ مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں۔