مہاراشٹر میں مسلم تنظیموں کا بڑا فیصلہ: نفرت انگیز جرائم اور کمیونٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

مہاراشٹر میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، نفرت انگیز جرائم (ہیٹ کرائمز) اور اقلیتوں کو درپیش دیگر سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے مسلم تنظیموں، سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے ایک بڑا اور منظم قدم اٹھایا ہے۔ ریاست میں مقیم مسلم کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ اور متاثرین کو فوری قانونی و سماجی امداد فراہم کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمز (ایف ایم ایم) کے زیر اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے دوران لیا گیا۔ اس اجلاس میں ریاست بھر سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکانِ اسمبلی، ریٹائرڈ ججز، وکلاء، سماجی کارکنوں اور مذہبی اسکالرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور موجودہ حالات میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے صدر مولانا الیاس خان فلاحی نے ٹاسک فورس کے قیام کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت کے ساتھ محاذ آرائی قائم کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تعمیری اور مثبت کوشش ہے جس کے ذریعے مسلم کمیونٹی کو درپیش چیلنجز کے عملی، قانونی اور پائیدار حل تلاش کیے جائیں گے۔ یہ ٹاسک فورس کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا نفرت انگیز جرم کی صورت میں متاثرہ افراد کو فوری طور پر قانونی اور امدادی خدمات فراہم کرنے کے لیے متحرک رہے گی۔

مشاورتی اجلاس کے دوران شرکاء نے کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے ایک جامع 10 سالہ روڈ میپ بھی تیار کیا ہے، جس میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور انتظامی سطح پر مبینہ امتیازی سلوک کے خلاف اجتماعی ردعمل کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس طویل المدتی منصوبے میں بنیادی سطح پر بیداری کے پروگرام، قانونی امداد کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، جمہوری عمل میں بھرپور شرکت اور مختلف برادریوں کے درمیان باہمی تال میل بڑھانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ جسٹس اینڈ پیس کمیشن اور آئی سی او آر (ICOR) سے وابستہ معروف دانشور ڈولفی ڈی سوزا نے اس موقع پر کہا کہ معاشرے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف کمیونٹی کو ذہنی و قانونی طور پر تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے گی۔

اجلاس میں منظور کی گئی اہم ترین قراردادوں میں ریاستی حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن (تبدیلیِ مذہب مخالف) قانون کو فوری طور پر واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اس کے ممکنہ نفاذ کے خلاف آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے قانونی حکمت عملی اپنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم کمیونٹی کو موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون کے دائرے میں رہ کر مضبوط آواز اٹھانی ہوگی۔

اس اہم مشاورتی کانفرنس میں بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج ابھے تھپسی، سابق ممبر پارلیمنٹ عبید اللہ خان اعظمی، اور مہاراشٹر اسمبلی کے ممتاز ارکان بشمول امین پٹیل، ساجد پٹھان، ہارون خان، ابو عاصم اعظمی، ثناء ملک اور رئیس شیخ نے شرکت کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فیڈریشن نے تمام اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلم نوجوانوں اور خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ سیاسی و سماجی حالات کے تئیں انتہائی چوکنا رہیں اور ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کے درست اندراج کو یقینی بنائیں تاکہ جمہوری عمل میں ان کی حصہ داری کو کمزور نہ کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔